ایساؔ تغیر اس پر وارد ہو جاتا ہے کہ کچھ بھی اس کی دنیوی شعور اور ادراک کی حالت اس کے اندر باقی نہیں رہتی۔ غرض موت اورخواب دونوں حالتوں میں خدا کا قبضہ اور تصرف رُوح پر ایسا ہو جاتا ہے کہ زندگی کی علامت جو خود اختیاری اور خود شناسی ہے بکلی جاتی رہتی ہے پھر خدا ایسی رُوح کو جس پر درحقیقت موت وارد کردی ہے واپس جانے سے روک رکھتا ہے اور وہ رُوح جس پر اُس نے درحقیقت موت وارد نہیں کی اس کو پھر ایک مقررہ وقت تک دُنیا کی طرف واپس کر دیتا ہے۔ اس ہمارے کاروبار میں اُن لوگوں کے لئے نشان ہیں جو فکر اور سوچ کرنے والے ہیں۔ یہ ہے ترجمہ معہ شرح آیت ممدوحہ بالا کا۔ اور یہ آیت موصوفہ بالا دلالت کر رہی ہے کہ جیسی جسم پر موت ہے روحوں پر بھی موت ہے لیکن قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ ابرار اوراخیار اور برگزیدوں کی روحیں چند روز کے بعد پھر زندہ کی جاتی ہیں۔ کوئی تین دن کے بعد کوئی ہفتہ کے بعد کوئی چالیس۴۰ دن کے بعد۔ اور یہ حیات ثانی نہایت آرام اور آسائش اور لذت کی اُن کو ملتی ہے۔ یہی حیات ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے نیک بندے اپنی پوری قوت اور پوری کوشش اور پورے صدق و صفا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں اور نفسانی تاریکیوں سے
باہر آنے کے لئے پورا زور لگاتے ہیں اورخدا کی رضاجوئی کے لئے تلخ زندگی اختیار کرتے ہیں گویا مر ہی جاتے ہیں۔ غرض جیسا کہ آیت موصوفہ بالا بیان فرما رہی ہے رُوح کو بھی موت ہے جیسا کہ جسم کو اگر چہ اُس عالَم کی نہایت مخفی کیفیتیں اس تاریک دنیا میں ظاہر نہیں ہوتیں لیکن بلاشبہ عالم رؤیا یعنی خواب کا عالَم اُس عالَم کے لئے ایک نمونہ ہے اور جو موت اِس عالَم میں رُوح پر وارد ہوتی ہے اس موت کا نمونہ عالم خواب میں بھی پایا جاتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ معاً آنکھ بند ہونے کے ساتھ ہی ہماری رُوح کی تمام صفات اُلٹ پلٹ ہو جاتی ہیں اور اس بیداری کا تمام سلسلہ فراموش ہو جاتا ہے اور تمام رُوحانی صفات اور تمام علوم جو ہماری روح میں تھے کالعدم ہوجاتے ہیں اور حالت خواب میں وہ نظارے رُوح کے ہمارے پیش نظر آجاتے ہیں جن سے ثابت ہوتاؔ ہے کہ اب وہ ہماری رُوح کچھ اور ہی ہے اور تمام صفات اس کے جو بیداری میں تھے