کروگے اور جس طور سے عالم خواب میں رُوح پر اؔ یک موت وارد ہوتی ہے اور اپنے علوم او ر صفات سے وہ الگ ہو جاتی ہے اس طور پر نظر تدبر ڈالوگے تو تمہیں یقین ہوجائے گا کہ موت کامعاملہ خواب کے معاملہ سے ملتا جلتا ہے پس یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ روح مفارقتِ بدن کے بعد اُسی حالت پر قائم رہتی ہے جو حالت دنیا میں وہ رکھتی تھی بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ایسی ہی موت اس پر وارد ہو جاتی ہے جیسا کہ خواب کی حالت میں وارد ہوئی تھی بلکہ وہ حالت اِس سے بہت زیادہ ہوتی ہے اور ہر ایک صفت اس کی نیستی کی چکّی کے اندر پیسی جاتی ہے اور وہی رُوح کی موت ہوتی ہے اور پھر جو لوگ زندہ ہونے کاکام کرتے تھے وہی زندہ کئے جاتے ہیں کسی روح کی مجال نہیں کہ آپ زندہ رہ سکے۔ کیا تم اختیار رکھتے ہو کہ نیند کی حالت میں تم اپنے ان صفات اورحالات اور علوم کو اپنے قبضہ میں رکھ سکو جو بیداری میں تم کو حاصل ہیں؟ نہیں بلکہ آنکھ بند کرنے کے ساتھ ہی روح کی حالت بدل جاتی ہے اور ایک ایسی نیستی اُس پر وارد ہوتی ہے کہ تمام کارخانہ اُس کی ہستی کا اُلٹ پلٹ ہو جاتا ہے چنانچہ خدا تعالیٰ رُوح کی موت کے بارے میں قرآن شریف میں فرماتا ہے۔
۱ الجزو نمبر۲۴ سورۃ الزمر۔
(ترجمہ) خدا جانوں کو جب اُن کی موت کاوقت آتا ہے اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے یعنی وہ جانیں بے خود ہوکر الٰہی تصرّف اور قبضہ میں اپنی موت کے وقت آجاتی ہیں اور زندگی کی خود اختیاری اور خودشناسی اُن سے جاتی رہتی ہے اورموت ان پر واردہو جاتی ہے یعنی بکلّی وہ روحیں نیست کی طرح ہو جاتی ہیں اور صفات حیات زائل ہو جاتی ہیں اور ایسی رُوح جو دراصل مرتی نہیں مگر مرنے کے مشابہ ہوتی ہے وہ رُوح کی وہ حالت ہے کہ جب انسان سوتا ہے تب وہ حالت پیدا ہوتی ہے اور ایسی حالت میں بھی رُوح خدا تعالیٰ کے قبضہ اور تصرف میں آجاتی ہے اور