سو یہ بھی ایک قسم موت کی ہے کیونکہ جو چیز اپنی صفات سے الگ ہو جائے اس کو زندہ نہیں کہہ سکتے۔ اکثر لوگ موت کے لفظ پر بہت دھوکہ کھاتے ہیں موت صرف معدوم ہونے کا نام نہیں بلکہ اپنی صفات سے معطل ہونے کا نام بھی موت ہے ورنہ جسم جو مر جاتا ہے بہر حال مٹی اس کی تو موجود رہتی ہے اسی طرح روح کی موت سے بھی یہی مراد ہے کہ وہ اپنی صفات سے معطل کی جاتی ہے جیسا کہ عالم خواب میں دیکھا جاتاہے کہ جیسے جسم اپنے کاموں سے بیکار ہو جاتا ہے ایسا ہی روح بھی اپنی ان صفات سے جو بیداری میں رکھتے تھے بکلّی معطل ہو جاتی ہے مثلاً ایک زندہ کی روح کسی میّت سے خواب میں ملاقات کرتی ہے اور نہیں جانتی کہ وہ میت ہے اور سونے کے ساتھ ہی بکلّی اس دُنیا کو بھول جاتی ہے اور پہلا چولہ اُتار کر نیاچولہ پہن لیتی ہے اور تمام علم جو رکھتی تھی سب کے سب بیکبار گی فراموش کر دیتی ہے اور کچھ بھی اس دنیا کا یاد نہیں رکھتی بجز اس صورت کے کہ خدا یاد دلاوے اور اپنے تصرّفات سے بکلّی معطل ہو جاتی ہے اور سچ مچ خدا کے گھر میں جاپہنچتی ہے اور اس وقت تمام حرکات اور کلمات اور جذبات اس کے خدا تعالیٰ کے تصرفات کے نیچے ہوتے ہیں اور اس طور سے خدا تعالیٰ کے تصرفات کے نیچے وہ مغلوب ہوتی ہے کہ نہیں کہہ سکتے کہ جو کچھ عالم خواب میں کرتی یا کہتی یا سنتی یا حرکت کرتی ہے وہ اپنے اختیار سے کرتی ہے بلکہ تمام اختیاری قوت اس کی مسلوب ہو جاتی ہے اور کامل طور پر موت کے آثار اس پر ظاہر ہو جاتے ہیں سو جس قدر جسم پر موت آتی ہے اس سے بڑھ کر رُوح پر موت وارد ہو جاتی ہے مجھے ایسے لوگوں سے سخت تعجب آتا ہے کہ وہ اپنی حالت خواب پر بھی غور نہیں کرتے اور نہیں سوچتے کہ اگر رُوح موت سے مستثنےٰ رکھی جاتی تو وہ ضرور عالم خواب میں بھی مستثنےٰ رہتی ہمارے لئے خواب کا عالم موت کے عالم کی کیفیت سمجھنے کے لئے ایک آئینہ کے حکم میں ہے جو شخص رُوح کے بارے میں سچی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ خواب کے عالم پر بہت غور کرے کہ ہر ایک پوشیدہ راز موت کا خواب کے ذریعہ سے کھل سکتا ہے اگر تم عالم خواب کے اسرار پر جیسا کہ چاہیئے توجہ