ہوتی ہے اور گو روح کا فاسفرس اُس مادہ سے ہی پیدا ہوتا ہے ؔ مگر وہ روحانی آگ جس کانام رُوح ہے وہ بجز مس نسیم آسمانی کے پیدا نہیں ہوسکتی۔ یہ سچا علم ہے جوقرآن شریف نے ہمیں بتلایا ہے تمام فلاسفروں کی عقلیں اس علم تک پہنچنے سے بیکار ہیں اور وید بھی بَید بے ثمر کی طرح اس علم سے محروم رہا وہ قرآن شریف ہی ہے جو اس علم کو زمین پر لایا سو اس طور سے ہم کہتے ہیں کہ رُوح نیست سے ہست ہوتی ہے یا عدم سے وجود کا پیرایہ پہنتی ہے۔ یہ نہیں ہم کہتے کہ عدم محض سے رُوح کی پیدائش ہوتی ہے کیونکہ تمام کارخانہ پیدائش سلسلہ حکمت اور علل معلولا ت سے وابستہ ہے۔
اور یہ کہنا کہ اگر روح مخلوق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ فنا بھی ہو جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رُوح بیشک فناپذیر ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ جو چیز اپنی صفات کو چھوڑتی ہے اس حالت میں اس کو فانی کہا جاتا ہے اگر کسی دوا کی تاثیر بالکل باطل ہو جائے تو اس حالت میں ہم کہیں گے کہ وہ دوا مرگئی ایسا ہی روح میں یہ امر ثابت ہے کہ بعض حالات میں وہ اپنی صفات کو چھوڑ دیتی ہے بلکہ اس پر جسم سے بھی زیادہ تغیرات وارد ہو تے ہیں انہیں تغیرات کے وقت کہ جب وہ روح کو اُس کی صفات سے دُور ڈال دیتی ہیں کہا جاتا ہے کہ رُوح مرگئی کیونکہ موت اسی بات کا نام ہے کہ ایک چیز اپنی لازمی صفات کو چھوڑ دیتی ہے تب کہا جاتا ہے کہ وہ چیز مرگئی اور یہی بھید ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فقط اُنہیں انسانی رُوحوں کو بعد مفارقتِ دنیازندہ قراردیاہے جن میں وہ صفات موجود تھے جو اصل غرض اورعلّت غائی ان کی پیدائش کی تھی یعنی خدائے تعالیٰ کی کامل محبت اور اس کی کامل اطاعت جو انسانی روح کی جان ہے اور جب کوئی رُوح خدا تعالیٰ کی محبت سے پُرہوکر اور اس کی راہ میں قربان ہوکر دنیا سے جاتی ہے تو اُسی کوزندہ روح کہاجاتاہے باقی سب مُردہ روحیں ہوتی ہیں۔ غرض رُوح کا اپنی صفات سے الگ ہونا یہی اس کی موت ہے چنانچہ حالت خواب میں بھی جب جسم انسانی مرتا ہے تو روح بھی ساتھ ہی مر جاتی ہے یعنی اپنی صفات موجودہ کو جو بیداری کی حالت میں تھیں چھوڑ دیتی ہے اور ایک قسم کی موت اُس پر وارد ہو جاتی ہے کیونکہ خواب میں وہ صفات اس میں باقی نہیں رہتیں جو بیداری میں اُس کو حاصل ہوتی ہیں