بھی نہیں تھا بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے لئے کوئی ایسا مادہ نہیں تھا کہ انسان اپنی قوت سے اس میں سے رُوح نکال سکتا اور اس کی پیدائش صرف اس طور سے ہے کہ محض الٰہی قوت اور حکمت اور قدرت کسی مادہ میں سے اس کو پیدا کر دیتی ہے اسی واسطے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ روح کیا چیز ہے توخدا نے فرمایا کہ تو ان کو جواب دے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے ا س بارے میں آیت قرآنی یہ ہے کہ :۔
3 ۱
یعنی یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ رُوح کیا چیز ہے اور کیونکر پیدا ہوتی ہے۔ اُن کو جواب دے کہ رُوح میرے رب کے امر سے پیدا ہوتی ہے یعنی وہ ایک رازِ قدرت ہے اور تم لوگ رُوح کے بارے میں کچھ علم نہیں رکھتے مگر تھوڑا سا یعنی صرف اس قدر کہ تم رُوح کو پیدا ہوتے دیکھ سکتے ہو اس سے زیادہ نہیں جیسا کہ ہم بچشم خود دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری آنکھ کے سامنے کسی مادہ میں سے کیڑے مکوڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔
اورانسانی رُوح کے پیدا ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کا قانون قدرت یہ ہے کہ دو نطفوں کے ملنے کے بعد جب آہستہ آہستہ قالب تیار ہو جاتا ہے تو جیسے چند ادویہ کے ملنے سے اُس مجموعہ میں ایک خاص مزاج پیدا ہو جاتی ہے کہ جو ان دواؤں میں فرد فرد کے طور پر پیدا نہیں ہوتی اسی طرح اُس قالب میں جو خون اور دو نطفوں کامجموعہ ہے ایک خاص جوہر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ایک فاسفرس کے رنگ میں ہوتا ہے اور جب تجلّی الٰہی کی ہو ا کُنْکے امر کے ساتھ اس پر چلتی ہے تو یکدفعہ وہ افروختہ ہوکر اپنی تاثیر اس قالب کے تمام حصوں میں پھیلا دیتا ہے تب وہ جنین زندہ ہو جاتا ہے پس یہی افروختہ چیز جو جنین کے اندر تجلّی ربّی سے پیدا ہو جاتی ہے اسی کا نام رُوح ہے اوروہی کلمۃ اللہ ہے اور اس کو اَمْرِ رَبِّی سے اس لئے کہا جاتا ہے کہ جیسے ایک حاملہ عورت کی طبیعت مدبّرہ بحکم قادر مطلق تمام اعضاء کو پیدا کرتی ہے اور عنکبوت کے جالے کی طرح قالب کو بناتی ہے اس روح میں اس طبیعت مدبّرہ کو کچھ دخل نہیں بلکہ رُوح محض خاص تجلی الٰہی سے پیدا