نکاح میں ہے دوسرے سے ہم بستر کراوے۔ بلکہ ایک مدّت دراز تک ۔۔۔ دس۱۰ شخصوں سے ہمبستر کرا سکتا ہے۔ ایسے لوگوں سے افسوس ہی کیا ہے اگر وہ اپنے سخت الفاظ سے ہمارا دِل دُکھاویں تو ہمیں صبر کرنا چاہیئے۔ جب تک کہ ہمارا اور اُن کا خدا تعالیٰ فیصلہ کرے۔ اور اِسی صبر کے لئے خدا تعالیٰ کے قرآن شریف میں یہ تعلیم ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3
33۱(اٰل عمران ع۱۹) (ترجمہ) البتہ تم اپنے مالوں اور جانوں کے بارے میں آزمائے جاؤگے اور تم اہل کتاب اور مشرکوں سے بہت دل آزار باتیں سنوگے اور اگر تم صبر کروگے اور جوش اور اشتعال سے اپنے تئیں بچاؤگے تو یہ بات ہمت کے کاموں سے ہے۔
اور یاد رہے کہ آریہ صاحبوں نے جو ہمارے مضمون سے اپنے مضمون کا پڑھنا آخری دن پر رکھا تو اُن کی یہ غرض تھی کہ تا اپنے مضمون میں جہاں تک بس چل سکے ہماری کسی بات کاردّ لکھ دیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مضمون میں ایسا کرنا چاہا مگر پھر بھی اپنی پردہ دری کرائی۔ اگر وہ بے جاحملہ نہ کرتے تو ہمیں کچھ ضرور نہ تھا کہ ہم اُن کے اس غلط بیان کا پردہ کھولتے جو انہوں نے وید کی اعلیٰ تعلیم ہونے کے بارے میں پیش کیا ہے۔ مگر اب ہمیں اُن کے جھوٹ کا پردہ کھولنے کے لئے پبلک کے آگے اس بات کو ظاہرکرنا پڑا کہ اُن کا بیان وید کی تعلیم کی نسبت کہاں تک صحیح اور راست ہے۔ اور بعد اس کے ہم اُن حملوں کا جواب دیں گے جو نادان معترض نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف اور اسلام پر کئے ہیں۔ سو ہم اپنی تحریر کو دو حصوں پر منقسم کرتے ہیں۔