میں ایک کی بیاہتا بیوی دوسرے سے ہمبستر ہو جاتی ہے اس سے زیادہ تر وحشیانہ حالت کی اورؔ کونسی نظیر ہوسکتی ہے مگر جب انسان میں شرم اور حیا نہیں رہتی تو وہ ناپاکی کو بھی ایک پاک طریق سمجھ لیتا ہے۔ اور دنیوی علوم کے ذکر کرنے کے وقت یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ لوگ تاریخ کے نہایت کچے ہیں اور اسلامی زمانہ تک تو اُن کی تاریخ کا کچھ تھوڑا سا پتہ لگتا ہے مگر پھر جب اسلامی زمانہ سے اوپر چڑھیں تو ان کے تاریخی حالات میں تاریکی شروع ہو جاتی ہے اور پھر اگر ہزار برس تک آگے چلے جائیں تو ایسی تاریکی معلوم ہوتی ہے کہ بجز شاعروں کی گپ اور لاف و گزاف کے اور کسی صحیح تاریخ کا پتہ نہیں لگتا۔ او ر یہ بات نہ صرف ہم کہتے ہیں بلکہ جس قدر دنیا کے عقل مندوں نے ان کے تاریخی حالات پر غور کی ہے سب کی بالاتفاق یہی رائے ہے۔ رہی یہ بات کہ وید روحانی علوم کا سرچشمہ ہے یہ حقیقت تو ہمیں اس دن سے معلوم ہے جب کہ ستیارتھ پرکاش میں ہم نے یہ پڑھا تھا کہ ویدنے اپنا روحانی علم یہ ظاہر کیا ہے کہ روحیں بدنوں سے نکل کر پھر شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہیں۔ سوجس وید کے رُوحانی علموں کا یہ نمونہ ہے وہ کیوں نہ سرچشمہ علوم ہو عقلمند انسان تو ایک نقطہ سے تمام حالات معلوم کرسکتا ہے رُوحوں کا مخلوق ہونا کروڑہا مشاہدات سے ثابت ہے مگر وید کہتا ہے کہ مخلوق نہیں اورخدا تعالیٰ کی طرح وہ قدیم سے خود بخود ہیں پس ایک طرف تو وید اپنے پرمیشر کو خالق ہونے سے جواب دیتا ہے اور دوسری طرف امر مشہود محسوس کا انکار کرتا ہے یہ اس کا فلسفہ ہے اور یہ روحانی علوم ہیں۔ مگر قرآن شریف کہتا ہے کہ روحیں انادی اور غیر مخلوق نہیں اور دو نطفوں کی ایک خاص ترکیب سے وہ پیدا ہوتی ہیں اور یادوسرے کیڑوں مکوڑوں میں ایک ہی مادہ سے پیدا ہو جاتی ہیں اور یہی سچ ہے کیونکہ مشاہدہ اس پر گواہی دیتاہے جس کے ماننے کے بغیر چارہ نہیں اور امورمحسوسہ مشہودہ سے انکار کرنا سراسر جہالت ہے اور جب ہم کہتے ہیں کہ رُوح نیست سے ہست ہوتا ہے تو اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اوّل وہ کچھ