کوسیکا رشی کا قصہ وید میں موجود نہیں ؟ ایسا ہی اور کئی قصے ہیں جو رگوید کی شُرتیوں میںؔ اُن کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں۔ درحقیقت یہ لوگ نادان دوست کے حکم میں ہیں کہ اپنی طرف سے الہامی کتاب کے لئے بیہودہ شرطیں لگاکروید کے منہ پر سیاہی کا دھبّہ لگاتے ہیں۔ خود تاریخ کو ایک علمی ذریعہ سمجھا گیا ہے پھر ایسے قصے کیوں قابل اعتراض ہیں جن کے ذکر سے نہ صرف تاریخی امور معلوم ہوتے ہیں بلکہ وہ قصے عمدہ عمدہ مثالوں اور نظیروں کو پیش کرکے نیکی اور صلاحیت کی طرف کھینچتے ہیں اور بدوں اور بدکاروں کا انجام ذکرکرکے بدی سے روکتے ہیں گویا وہ ایک بھاری فوج ہے جو دلوں کو فتح کرتی ہے اور کمزوری کو دور کرتی اور نیک کاموں کے لئے قوت دیتی ہے۔ مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ نشانی لکھی ہے کہ وہ کتاب تمام دینی علوم کا سرچشمہ ہو ۔ اُس کی اِس تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت وہ درپردہ وید کا سخت مخالف ہے کیونکہ ایسی باتیں کرتا ہے جو وید میں پائی نہیں جاتیں دنیوی امور کے بارے میں تو ذکر کرنا ہی فضول ہے کیونکہ آریوں میں سے جس قدر لوگوں نے حال کی نئی سائنس اور ہیئت کو پڑھا ہے وہ اپنے دل میں خوب جانتے ہوں گے کہ اس ترقی علوم کے زمانہ میں طبعی اور ہیئت کے علوم میں انواع و اقسام کے تجارب کے ذریعہ سے وہ اسرار کھلے ہیں جو نہ وید کو معلوم تھے اور نہ وید کے رشیوں کو بلکہ وید کو علوم دنیوی سے کچھ بھی علاقہ نہیں اوروہ اس وحشیانہ زمانہ کی کتاب ہے جبکہ ان علوم سے لوگ محض ناآشنا تھے یہاں تک کہ اُن کو یہ بھی توفیق نہ ہوئی کہ اپنے خالق اور مالک کو شناخت کرسکیں اورنہ صرف اس قدر بلکہ انسانی طہارت اور تہذیب سے بھی بالکل بے بہرہ تھے۔ چنانچہ نیوگ کا عقیدہ ظاہر کر رہا ہے کہ جیسا کہ جنگلوں کے درند چرند وغیرہ بغیر قید نکاح کے نر مادہ باہم مل جاتے ہیں یہی طریق اس زمانہ میں آریوں کا تھا بلکہ حیوانات سے بدتر کیونکہ حیوانات کو تو خدا نے عقل نہیں دی اوروہ معذور ہیں مگر یہ لوگ باوجود عقل رکھنے کے حیوانات سے بھی بڑھ گئے۔ ان کے مذہب