سے سزا یاب ہوئے ایسے کاموں کے کرنے سے دل میں خوف پیدا ہو جاتا ہے کہ مبادا ہم بھی پکڑےؔ جائیں سو ترغیب اور ترہیب کے لئے یہ ایک طریق ہے جس طریق سے انسانی فطرت ہمیشہ متاثر ہوتی چلی آتی ہے سوخدا تعالیٰ کی کامل کتاب کی ہی نشانی ہے جو انسانوں کو حق پر قائم کرنے کے لئے کسی مؤثر طریق کو اٹھانہ رکھے اور ہر ایک طریق کو بیان کردے سو قرآن شریف نے ان تمام طریقوں کو استعمال کیااوّل کھول کھول کر سنا دیا کہ اچھے کام یہ ہیں اور بُرے کام یہ ہیں اور پھر اچھے کاموں کے نتیجے اور بُرے کاموں کے نتیجے کھول کر بتلادئیے اور پھر اُن امور کے بارے میں ان لوگوں کے حالات سنا دئیے جو پہلے زمانوں میں گذر چکے ہیں اور ظاہر ہے کہ نیک اعمال اور نیک اخلاق کی طرف مائل ہونے اور بدطریق کو ترک کرنے کے لئے قصوں کو بڑا دخل ہے یہاں تک کہ ناول پڑھنے والے بھی ان فرضی اور مصنوعی قصوں سے متاثر ہو جاتے ہیں اور درحقیقت اصلاح چلن اور تبدیل اخلاق کے لئے یہ ایک علمی ذریعہ ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس ذریعہ سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور اب بھی اٹھاتے ہیں۔ مگر ہم آریوں کے موجودہ وید کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ وہ اس علمی ذریعہ کا بھی دشمن ہے۔
ماسوا اس کے قرآن شریف میں جس قدر قصے بیان کئے گئے ہیں ان کی تحریر سے صرف یہی غرض نہیں کہ گذشتہ لوگوں کے نیک کام اور بدکام پیش کرکے اُن کا انجام سنا دیا جاوے تاوہ رغبت یا عبرت کا ذریعہ ہوں بلکہ یہ بھی غرض ہے کہ ان تمام قصوں کو پیش گوئی کے رنگ میں بیان کیا گیا ہے اور جتلایا گیا ہے کہ اس زمانہ میں بھی ظالم اور شریر لوگوں کو انجام کار ایسی ہی سزائیں ملیں گی جیسی پہلے شریر لوگوں کو ملی تھیں اور صادقوں اور راستبازوں کی ایسی فتح ہوگی جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوئی تھی۔ مجھے تعجب ہے کہ مضمون پڑھنے والے نے ایسی بیہودہ اور باطل نشانی الہامی کتاب کی لکھ کر کیوں ویدکی پردہ دری کرائی اور کیوں عقلمندوں کووید پر ہنسنے کا موقعہ دیا۔ اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ وید میں قصے بھی موجود ہیں کیا