صوؔ رت میں بلا شبہ رشیوں کے دلوں پر ایسی کتاب کا نازل کرنا یا نہ نازل کرنا برابر ہوگا کیونکہ اس جگہ یہ سوال پیش ہوگا کہ جب کہ انسان اسی زبان کو سمجھ سکتا ہے جس کو بول سکتا ہے تو وید کے رشیوں کو ایسی زبان کیونکر سمجھ آسکتی تھی جس کو وہ بول نہ سکتے تھے۔
اور اگر کہو کہ پرمیشرنے رشیوں کو اُن کی اپنی زبان کے ذریعہ سے اس نامعلوم زبان کے معنے سمجھا دئیے تھے تو یہ عذر بھی دوسرے لفظوں میں اس بات کا اقرارہے کہ پرمیشر انسان کی زبان میں الہام کرتا ہے بلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ پرمیشر ایسی زبان میں الہام کرنے سے پچھتایا جس کو وید کے رشی سمجھ نہیں سکتے تھے اور جب اس کواپنی غلطی محسوس ہوئی تو آخر اس نے انسانوں کی زبان کے ذریعہ سے اس زبان کے معنی وید کے رشیوں کو سمجھائے پس کیا ایسی لغو حرکت سے یہ ثابت نہ ہوگا کہ پرمیشر بھی اپنی جلد بازی سے غلطی کر بیٹھتا ہے اور اس پر اعتراض ہوگا کہ جس بات کو اس نے مجبور ہوکر آخر کو اختیار کیا وہ بات پہلے ہی کیوں اختیار نہ کی۔
ماسوا اس کے جب کہ ہم خوداس بات کے گواہ ہیں کہ خدا تعالیٰ اب بھی دوسری زبانوں میں الہام کرتا ہے اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں اس گروہ میں داخل کیا ہے جو خدا تعالیٰ کے مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہوتے ہیں تو پھر ہم امور مشہودہ ثابت شدہ سے کیونکر انکار کرسکتے ہیں کیا آریہ سماج والوں کو خبر نہیں کہ وہ ہمارا الہام ہی تھا جس نے چھ۶ برس پہلے لیکھرام کی نسبت خبر دی تھی کہ وہ چھ۶ برس کی مدت تک عید سے ایک دن بعد بذریعہ قتل اس دنیا سے کوچ کرے گا اوروہ ہمارا الہام ہی تھا جس نے خبردی تھی کہ مسمّی سومراج اور اس کے د۲و ساتھی جو قادیان میں بدگوئی سے باز نہیں آئے تھے طاعون کے عذاب سے مریں گے۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اپنے اخبار شُبھ چنتک کے ذریعہ سے گالیاں دینا اپنا شیوہ بنا رکھا تھا آخر طاعون نے دو تین دن میں ہی اُن کا قصہ پاک کیا۔ ایسا ہی وہ ہمارا الہام ہی تھا جس نے تمام دنیا کے سخت زلازل کی خبرؔ دی