اور نیز ۴؍ اپریل ۱۹۰۵ ء کے زلزلہ کی خبر دی تھی۔ ایسا ہی اور صدہا الہامی پیشگوئیاں ہیں جو ظہور میں آئیں اور پوری ہوئیں پھر ہم اپنی چشم دید باتوں سے کیونکر انکار کرسکتے ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہر ایک زبان میں الہام کرتا ہے جیسا کہ وہ ہر ایک زبان میں لوگوں کی آواز سنتا ہے۔ مخلوق کی زبانیں دراصل خدا کی ہی زبان ہے۔ ہر ایک قوم اپنی اپنی زبان میں اس کی درگاہ میں دعائیں کرتی ہے۔
ویدک سنسکرت کی نسبت اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک مردہ زبان ہے چونکہ اب وہ بولی نہیں جاتی تو نادان لوگوں نے سمجھ لیا کہ گویا وہ پرمیشر کی زبان ہے ورنہ ہر ایک عقل سلیم سمجھ سکتی ہے کہ چونکہ خدا سرب شکتی مان ہے اور قادر مطلق اور عالم الغیب ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہر ایک زبان کا اس کو علم ہو اور ہر ایک زبان کے بولنے پروہ قادر ہو اور اگر وہ ہر ایک زبان کے بولنے پر قادر تو ہے مگر اس کو بولنا اپنی شان کے برخلاف سمجھتا ہے تو اُن زبانوں میں لوگوں کی دعائیں کیوں سنتا ہے کیا اس میں اس کی کسر شان نہیں ؟ اس میں بھی یہ شرط لگا دینی چاہئے کہ دعا تب سنی جائے گی کہ جب اُسی زبان میں جو پرمیشر کی زبان ہے لوگ دعا کریں اور بغیر اس کے ہرگز ہرگز پرمیشر کسی کی دُعا کو نہیں سنے گا۔ تعجب کہ ان لوگوں کی عقل کیسی ماری گئی ہے کہ پرمیشر کے لئے ایک خاص زبان ٹھہراتے ہیں گویا جیسا کہ ہر ایک قوم کی الگ زبان ہے ایسا ہی پرمیشر کی بھی ایک الگ زبان ہے حالانکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ انسانوں کا پیدا کرنے والا ہے ایساہی ان کی زبانوں کا بھی وہی پیدا کرنے والا ہے اور نہیں کہہ سکتے کہ وہ ان کی زبانوں سے بے خبر ہے یا اُن میں بولنے پر قادر نہیں اورکوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی ہے کہ پرمیشر کو دوسری زبانوں میں الہام ہونے سے کیوں نفرت اور بیزاری ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ وہ دوسری زبانوں میں دُعا کو سن تو لیتا ہے مگر بول نہیں سکتا۔
علاوہ اس کے ہم نے ایک بڑی عمیق تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ جس قدر دنیا میں زبانیں ہیں ان سب کی ماں عربی ہے اور اس وقت ہم طول کے اندیشہ کی وجہ سے ؔ اس بارے میں