یہ بات نہیں مانتا کہ ویدوں کے رشیوں کو یہ خبر بھی ہو کہ سوائے آریہ ورت کے دنیا میں اور ملک بھی ہے۔ ماسوا اِس کے وید کی یہ تعلیمیں کہ گوبر کھانا اورپیشاب پینا اور اپنی منکوحہ عورتوں کو بغیر طلاق کے نامحرم مردوں سے ہمبستر کرانا اورخدا کے خالق ہونے سے انکار کرنا اورآگ اور پانی اور چاند اور سورج وغیرہ اجرام کی پرستش کے لئے حکم دینا جس سے تمام آریہ ورت بھرا پڑا ہے۔ یہ ایسی خراب تعلیمیں ہیں کہ کوئی پاک اور صحیح فطرت ان کو قبول نہیں کرسکتی اور ویدوں پر خود یہ تہمت ہے کہ کسی زمانہ اور کسی وقت میں اُن کی تعلیم عالمگیر تھی جس قدر اب دنیا میں ممالک موجود ہیں اس زمانہ سے پہلے کسی کی بلا کو بھی خبر نہ تھی کہ وید کیا چیز ہیں۔ جب اِس ملک میں گورنمنٹ انگریزی کی عملداری ہوئی تب بعض انگریزوں نے ویدوں کے ترجمے کئے اور یورپ اور امریکہ میں اس کانام پہنچایا معلوم نہیں کہ خواہ نخواہ منصوبے کے طور پر ایسی باتیں کرنا ان لوگوں کو کس نے سکھایا۔ اِس سے حاصل کیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ تو آسان ہے کہ صرف یورپ کے محققوں سے ہی دریافت کرلوکہ ویدوں کے نام سے تم کب سے واقف ہو اور کس زمانہ سے آشنا ہو۔ ماسوا اِس کے وید کی تعلیم کو تعلیم کہہ بھی نہیں سکتے۔ تعلیم تو وہ ہوتی ہے جس کے ذریعہ سے نجات کی راہ مل سکے مگر جبکہ وید کی رُو سے توبہ اور استغفار کا دروازہ ہی بند ہے اور تمام مدار تناسخ پر ہے تو وید کے ماننے سے کیا فائدہ اور نہ ماننے سے کیا نقصان ہے۔ مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ نشانی لکھی ہے کہ وہ کسی ملک کی زبان نہ ہو یعنی زمین کے باشندوں میں سے کوئی شخص اُس زبان کو نہ بول سکتا ہو نہ سمجھ سکتا ہو۔ اب ہمیں اس نشانی کے بارہ میں کچھ بیان کرنا ضروری نہیں خود ناظرین سوچ لیں کہ ایسی زبان میں الہامی کتاب نازل کرنے سے کیا فائدہ ہوگا اور جبکہ کوئی شخص اس زبان کو نہ بول سکتا ہے اور نہ سمجھ سکتا ہے تو اس کی ہدایتوں پر عمل کرنا کیونکر ممکن ہوگا ایسی