سراسر خلاف قانون قدرت ہے اور چونکہ ہم اس رسالہ میں اس امر کا خلافِ قانونِ قدرت ہونا دلائل مشہودہ محسوسہ سے ثابت کرچکے ہیں لہٰذا اب اس کے لکھنے کی اس جگہ ضرورت نہیں۔
تیسری نشانی جو مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کے لئے بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ اس کی تعلیم عالمگیر ہو لیکن ظاہر ہے کہ وید کی تعلیم ہرگز عالمگیر نہیں بلکہ عالمگیر ہونا تو الگ انسانی فطرت بھی اس کو قبول نہیں کرسکتی کیا دنیا میں کوئی غیرت مند انسان قبول کرسکتا ہے کہ اس کی منکوحہ عورت باوجود قائم ہونے نکاح کے دوسرے سے مُنہ کالا کراوئے انسانی غیرت نے ایسے ناجائز کاموں کے وقت دنیا میں خون کی ندیاں بہا دی ہیں۔ پس ایسی بے حیائی کی تعلیم عالمگیر کیونکر ہوسکتی ہے؟ مضمون پڑھنے والے کو اگر یہ دعویٰ ہو کہ یہ تعلیم عالمگیر بن سکتی ہے تو پہلے اس آریہ ورت میں ہی اس تعلیم کو جاری کرکے دکھلاوے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ قطعی اور یقینی طورپر معلوم ہوتا ہے کہ یہ نیوگ کی تعلیم درحقیقت اُن سنیاسیوں کی خود ایجاد ہے کہ جو دراصل اُن کا نفس شہوات سے ایسا بھرا ہوا تھا جیسا کہ ایک بڑا پھوڑا پیپ سے بھرا ہوتا ہے اور دوسری طرف اُن کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ بغیر عورت کے بسر کرسکتے تھے آخر نفس اُن کا قابو سے نکل گیا۔ سو ابتدا میں ایسے ہی سنیاسیوں نے نیوگ کے مسئلہ کو ایجاد کیا ہے اور اُس کے ذریعہ سے اپنی نفسانی خواہشیں پوری کی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ وہ ہدایت ویدمیں بھی درج کی گئی اور عام طور پر آریہ ورت میں اس پر عمل ہونے لگا سو خدا نہ کرے کہ وید کی یہ تعلیم عالمگیر ہو اور جس وقت یہ ناپاک تعلیم عالمگیر ہوجائے گی سو اُس وقت قیامت آجائے گی۔ اور یہ بھی ہم نے سنا ہے کہ ویدوں کے جغرافیہ میں یہ لکھا ہے کہ کوہ ہمالہ کے پرے کوئی آبادی نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ویدوں میں عالم سے مراد یہی آریہ ورت مراد ہے پس اگر یہ صحیح نہیں ہے تو اوّل آریوں پر فرض ہے کہ ویدوں کی شُرتیوں کے مواؔ فق عالم کی فہرست پیش کریں۔ میں تو