یہ جاندار کروڑہا درجہ انسانوں کی تعداد سے زیادہ ہیں پس جو کچھ ہماری نظر کے سامنے فعل الٰہی موجود ہے وہ صاف بتلا رہاہے کہ خدا کا قانون قدرت یہی ہے اور اس کے جواب میں یہ کہنا کہ جو جاندار گوشت خوار ہیں وہ کسی پہلی جون میں بہت برے آدمی تھے پرمیشر نے بطور سزا کے اُن کو گوشت خوار بنایا اس جواب سے ہر ایک عقلمند تعجب کرے گا کہ یہ کیسی سزا ہے کہ سزا کے طور پر ایک عمدہ اور مقوّی غذا ان کو دے دی۔ ماسوا اس کے ایک ثابت شدہ امر کے مقابل پر صرف اپنا ایک خیال پیش کرنا جس کا کوئی بھی ثبوت نہیں یہ کس قسم کی منطق ہے ظاہر ہے کہ یہ تو کھلے کھلے طور پر ثابت شدہ امر ہے کہ خدا تعالیٰ کی اکثر مخلوق دنیا میں گوشت خوار ہی ہے اور یہ صریح طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ مخلوق کے لئے خدا نے یہی پسند کیا ہے اور جو بعض پرند اور چرند گوشت نہیں کھاتے۔ وہ صرف اس وجہ سے ہے کہ و ہ شکار کرنے سے عاجز ہیں ورنہ وہ سب کچھ کھا سکتے ہیں اور جب یہ بات ثابت ہوچکی تو ماننا پڑا کہ مخلوق کے لئے خدا کا قانون قدرت یہی ہے کہ وہ گوشت کھایا کریں اور بہت سے اسباب صحت گوشت کھانے پر ہی موقوف رکھے گئے ہیں اسی لئے ہند کی طبابت میں بھی بعض امراض کے علاجوں میں گوشت کا ذکر ہے۔ اب اس کے مقابل پر یہ وہم پیش کرنا کہ گوشت خوار جاندار صرف سزا کے طور پر گوشت خوار بنائے گئے ہیں یہ صرف ایک دعویٰ ہے جس کا کچھ ثبوت نہیں ایسا ہی یہ لوگ ہر ایک جگہ دلیل کی جگہ دعویٰ ہی پیش کر دیتے ہیں نہ معلوم کہ ایسی باتوں سے یہ لوگ عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں یا اب تک یہ لوگ دعویٰ اور دلیل میں فرق نہیں کرسکتے۔ راجہ رام چندر اور کرشن سب گوشت کھاتے تھے اگر وہ گوشت کھانا خلاف قانونِ قدرت سمجھتے تو ایسا کیوں کرتے ؟ پھر جیسا کہ ہم بار بار لکھ چکے ہیں وید کا یہ دعویٰ کہ تمام روحیں قدیم اور انادی ہیں اور وہی باربار شبنم کی طرح زمین پر بذریعہ غذا انسانوں کے پیٹ میں جاتیں اور بچہ بنتی ہیں یہ بھی