ارادؔ ہ کیا تب ہر ایک قوم کے لئے جدا جدا رسول بھیجا اور یہ قومی وحدت اقوامی وحدت سے مقدم تھی اور حکمتِ ربّانی اس امر کی مقتضی تھی کہ اول ہر ایک ملک میں قومی وحدت قائم کرے اور جب قومی وحدت کا دور ختم ہوچکا تب اقوامی وحدت کا زمانہ شروع ہوگیا اوروہی زمانہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کا تھا۔ اور یاد رہے کہ کسی رسول اور کتاب کی اسی قدر عظمت سمجھی جاتی ہے جس قدر اُن کو اصلاح کاکام پیش آتا ہے اور جس قدر اس اصلاح کے وقت مشکلات کا سامنا پڑتا ہے سو یہ بات ظاہر ہے کہ ابتدائے زمانہ میں جو کتاب نازل ہوئی ہوگی وہ کسی طرح کامل مکمل نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ ابتدائے زمانہ میں اِن مشکلات کا وہم و گمان بھی نہیں آسکتا جو بعد میں پیدا ہوئیں ایسا ہی قومی وحدت کے زمانہ میں اس وقت میں اس وقت کے نبیوں اور رسولوں کو وہ مشکلات ہرگز پیش نہیں آسکتی تھیں جو اقوامی وحدت کے زمانہ میں اس نبی کو پیش آئیں جس کو یہ حکم ہوا کہ جو تمام قوموں کوایک وحدت پر قائم کرو۔
خلاصہ کلام یہ کہ دنیا پر تین انقلاب آئے ہیں اور ہر ایک انقلاب ایک خاص طور کی ہدایت کو چاہتا تھا چنانچہ ابتدائے آفرینش کا زمانہ ایک ایسا سادہ زمانہ تھا کہ اُس میں اِن معاصی اور گناہوں اور بدعقائد کی تفصیل کی ضرورت نہ تھی جوبعد میں پیدا ہوئی چونکہ اس زمانہ میں کامل طور پر نوع انسان میں بدی اور بدعقیدگی نہیں پھیلی تھی اس لئے اس وقت کسی کامل کتاب کی ضرورت نہ تھی لہٰذا جس کتاب کو ہم تسلیم کریں کہ وہ ابتدائے آفرینش کی کتاب ہے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ ناقص کتاب ہے۔ یہ بات ہر ایک عقلِ سلیم قبول کرلے گی کہ کمال اصلاح کی نوبت کمال فساد کے بعد آتی ہے۔ طبیب کا یہ کام نہیں کہ وہ چنگے بھلے لوگوں کو وہ دوائیں دے جو عین بیماری کے غلبہ کے وقت دینی چاہیئیں۔ اِسی لئے قرآن شریف نے پہلے یہ بیان کردیا کہ3 ۱ یعنی تمام دنیا میں فساد پھیل گیا او ر ہر ایک قسم کے گناہ اور معاصی کا طوفان برپا ہوگیا اور ؔ پھر ہرایک