جمع ؔ کردیوے جیسا کہ اس کا وعدہ قرآن شریف میں ہے کہ333 ۱؂ یعنی آخری زمانہ میں خدا اپنی آواز سے تمام سعید لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کردے گا جیسا کہ وہ ابتداء میں ایک مذہب پر جمع تھے تاکہ اول اورآخر میں مناسبت پیدا ہو جائے۔ غرض پہلے نوع انسان صرف ایک قوم کی طرح تھی اور پھر وہ تمام زمین پر پھیل گئے تو خدا نے اُن کے سہولت تعارف کے لئے ان کو قوموں پر منقسم کردیا اور ہر ایک قوم کے لئے اُس کے مناسب حال ایک مذہب مقرر کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے 33۲؂ (الجزو نمبر۲۶ سورۃ الحجرات) اور پھر فرماتا ہے 3 3۳؂ الجزو نمبر ۶ سورۃ المائدۃ (ترجمہ) اے لوگو! ہم نے مرد اور عورت سے تمہیں پیدا کیا ہے اورہم نے تمہارے کنبے اور قبیلے مقرر کئے یہ اس لئے کیا کہ تاتم میں باہم تعارف پیدا ہو۔ اور ہر ایک قوم کے لئے ہم نے ایک مشرب اور مذہب مقرر کیا تاہم مختلف فطرتوں کے جو ہر بذریعہ اپنی مختلف ہدایتوں کے ظاہرکردیں پس تم اے مسلمانو! تمام بھلائیوں کو دوڑ کرلو کیونکہ تم تمام قوموں کا مجموعہ ہو اور تمام فطرتیں تمہارے اندر ہیں۔غرض مذکورہ بالا وجوہ کی بنا پر خدا نے نوع انسان کو کئی قوموں پر منقسم کردیا۔ پہلے زمانہ کے لوگ تو آبائی رشتہ کے سلسلہ میں منسلک تھے اور ان میں وحدت قرابت حاصل تھی اور پھر جب بہت سی قومیں بن گئیں تو ہر ایک قوم میں وحدت قائم کرنے کے لئے کتابیں بھیجی گئیں اور اُس زمانہ میں ہر ایک حصہ ملک میں صرف قومی وحدت حاصل ہوسکتی تھی اس سے زیادہ نہیں یعنی تمام دنیا کی وحدت غیر ممکن تھی۔ اور پھر تیسرا زمانہ ایسا آیا جس میں اقوامی وحدت کے سامان پیدا ہوگئے یعنی تمام دنیا کی وحدت کے سامان ظہور میں آگئے اور ہر ایک زمانہ جو نوع انسان پر آیا وہ اس بات کا مقتضی تھا جو اِسی زمانہ کے مطابق کتاب دی جاوے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی وحدت کا جب خدا نے