انسان میں وحدت کے مختلف حصے قائم کرکے پھر ایک کامل وحدت کے دائرہ کے اندر سب کولے آوے سو خدا نے قوموں کے جُدا جُدا گروہ مقرر کئے اور ہر ایک قوم میں ایک وحدت پیدا کی اور اس میں یہ حکمت تھی کہ تا قوموں کے تعارف میں سہولت اور آسانی پیدا ہو اور ان کے باہمی تعلقات پیدا ہونے میں کچھ دقّت نہ ہو اور پھر جب قوموں کے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تعارف پیدا ہوگیا تو پھر خدا نے چاہا کہ سب قوموں کو ایک قوم بنا وے جیسے مثلاً ایک شخص باغ لگاتا ہے اور باغ کے مختلف بوٹوں کو مختلف تختوں پر تقسیم کرتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد تمام باغ کے ارد گرد دیوار کھینچ کر سب درختوں کو ایک ہی دائرہ کے اندر کر لیتاہے اِسی کی طرف قرآن شریف نے اشارہ فرمایا ہے اوروہ یہ آیت ہے۔3۱ یعنی اے دنیا کے مختلف حصوں کے نبیو ! یہ مسلمان جو مختلف قوموں میں سے اس دنیا میں اکٹھے ہوئے ہیں یہ تم سب کی ایک اُمّت ہے جو سب پر ایمان لاتے ہیں اور میں تمہارا خدا ہوں سو تم سب مل کر میری ہی عبادت کرو۔ (دیکھو الجزو نمبر۱۷ سورۃ الانبیاء) اس تدریجی وحدت کی مثال ایسی ہے جیسے خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ ہر ایک محلہ کے لوگ اپنی اپنی محلہ کی مسجدوں میں پانچ وقت جمع ہوں اور پھر حکم دیا کہ تمام شہر کے لوگ ساتویں دن شہر کی جامع مسجد میں جمع ہوں یعنی ایسی وسیع مسجد میں جس میں سب کی گنجائش ہوسکے اور پھر حکم دیا کہ سال کے بعد عیدگاہ میں تمام شہر کے لوگ اور نیز گردونواح دیہات کے لوگ ایک جگہ جمع ہوں اور پھر حکم دیا کہ عمر بھر میں ایک دفعہ تمام دنیا ایک جگہ جمع ہو یعنی مکّہ معظمہ میں۔ سو جیسے خدا نے آہستہ آہستہ امّت کے اجتماع کو حج کے موقع پر کمال تک پہنچایا۔ اوّل چھوٹے چھوٹے موقعے اجتماع کے مقرر کئے اوربعد میں تمام دنیا کو ایک جگہ جمع ہونے کا موقع دیا سو یہی سنت اللہ الہامی کتابوں میں ہے اور اس میں خدا تعالیٰ نے یہی چاہا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ نوع انسان کی وحدت کا دائرہ کمال تک پہنچادے۔ اوّل تھوڑے تھوڑے ملکوں کے حصوں میں وحدت پیدا کرے اور پھر آخر میں حج کے اجتماع کی طرح سب کو ایک جگہ