ہےؔ کہ وید کی طرف وہ کمال منسوب کیا جاتا ہے جو اس میں پایا نہیں جاتا۔
علاوہ اس کے کون شخص اس سے انکار کرسکتا ہے کہ ابتدائے زمانہ کے بعد دنیا پر بڑے بڑے انقلاب آئے۔ پہلے زمانہ کے لوگ تھوڑے تھے اور زمین کے چھوٹے سے قطعہ پر آباد تھے اور پھر وہ زمین کے دُور دُور کناروں تک پھیل گئے اور زبانیں بھی مختلف ہوگئیں اور اس قدر آبادی بڑھی کہ ایک ملک دوسرے ملک سے ایک علیحدہ دنیا کی طرح ہوگیا تو ایسی صورت میں کیا ضرور نہ تھا کہ خدا تعالیٰ ہر ایک ملک کے لئے الگ الگ نبی اور رسول بھیجتا اورکسی ایک کتاب پر کفایت نہ رکھتا۔ ہاں جب دنیا نے پھر اتحاداور اجتماع کے لئے پلٹا کھایا اور ایک ملک کو دوسرے ملک سے ملاقات کرنے کے لئے سامان پیدا ہوگئے اورباہمی تعارف کے لئے انواع واقسام کے ذرائع اور وسائل نکل آئے۔ تب وہ وقت آگیا کہ قومی تفرقہ درمیان سے اٹھا دیا جائے اور ایک کتاب کے ماتحت سب کو کیا جائے تب خدا نے سب دُنیا کے لئے ایک ہی نبی بھیجا تا وہ سب قوموں کو ایک ہی مذہب پر جمع کرے اور تاوہ جیسا کہ ابتداء میں ایک قوم تھی آخر میں بھی ایک ہی قوم بنادے۔
اوریہ ہمارا بیان جیسا کہ واقعات کے موافق ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کے موافق ہے جو زمین و آسمان میں پایا جاتا ہے کیونکہ اگرچہ اُس نے زمین کو الگ تاثیرات بخشی ہیں اور چاند کو الگ اور ہر ایک ستارہ میں جُداجُدا قوتیں رکھی ہیں مگر پھر بھی باوجود اس تفرقہ کے سب کو ایک ہی نظام میں داخل کردیا ہے اور تمام نظام کا پیشرو آفتاب کو بنایا ہے جس نے ان تمام سیاروں کو انجن کی طرح اپنے پیچھے لگا لیا ہے پس اس سے غور کرنے والی طبیعت سمجھ سکتی ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کی ذات میں وحدت ہے ایسا ہی وہ نوع انسان میں بھی جو ہمیشہ کی بندگی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وحدت کو ہی چاہتا ہے اور درمیانی تفرقہ قوموں کا جو بباعث کثرت نسل انسان نوع انسان میں پیدا ہوا وہ بھی دراصل کامل وحدت پیدا کرنے کے لئے ایک تمہید تھی کیونکہ خداؔ نے یہی چاہا کہ پہلے نوعِ