سنتاؔ تھا اب بھی سنتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ ہمارے اس زمانہ میں خدا کی قوتِ شنوائی تو بدستور بحال ہے لیکن قوتِ کلام مفقود ہوگئی اور کیا یہ سچ نہیں کہ پہلے زمانہ کے بعد جو زمانے آئے اُن میں دن بدن معصیت اور گناہ بڑھتا گیا اور اس قدر نئے نئے گناہ پیدا ہوئے جو پہلے زمانہ میں ان کانام و نشان نہ تھا تو کیا ایسی حالت میں یہ ضروری نہ تھا کہ خدا تعالیٰ تازہ گناہوں اور نوپیدا خراب عقیدوں کے لئے کوئی نئی کتاب بھیجتا جو موجودہ مفاسد کے دور کرنے کے لئے پورے زور سے اپنی زبردست ہدائتیں پیش کرتی اور اپنے خوفناک نشانوں کے ساتھ خدا کی طرف توجہ دلاتی نہ یہ کہ خدا اس قدر طوفان دیکھنے کے بعد بالکل چپ ہی ہو جاتا اور یہ کہتا کہ وید کے ورق چاٹا کرو اور اس سے بڑھ کر کوئی ہدایت میر ے پاس نہیں اور آئندہ کسی نئی ہدایت کی امید نہ رکھو ! اور اگر یہ کہو کہ وید میں پہلے سے یہ سب احکام موجود ہیں تو اس سے بڑھ کر کوئی جھوٹ نہیں ہوگا کیونکہ تم خود اقراررکھتے ہو اور عقل بھی یہی تجویز کرتی ہے کہ پہلا زمانہ ان گناہوں اور بدعقیدوں سے خالی تھا جو پیچھے سے پیدا ہوئے تو پھر جب پہلے زمانہ میں بدعقیدے اور گناہ موجود ہی نہیں تھے تواُن سے منع کرنا کیا معنی رکھتا ہے بلکہ یہ تو نامعلوم بدکاری اور بد عقیدہ کا یاد دلانا ہے اور اگر کہو کہ وید نے بطور پیشگوئی سب بُرے احکام اور بُرے عقیدے بیان کر دئیے ہیں کہ آئندہ ایسا ہوگا تو یہ جھوٹ ہے کیونکہ تم خود اقرار رکھتے ہوکہ وید میں کوئی پیشگوئی نہیں علاوہ اس کے ہم تو اس فیصلہ پر بھی راضی ہیں کہ جس قدر قرآن شریف نے بدعقیدوں اور بد اعمال کا حال بیان کیا ہے یا وہ عقیدے جو قرآن شریف نے بیان فرمائے مگر وید کی رو سے بدعقیدے ہیں ایسا ہی وہ بداعمال جو دنیا کے مختلف حصوں میں پائے جاتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں مفصل مذکور ہے آریہ لوگ وید میں سے ہم کو نکال دیں ایسے طور سے کہ جیسے غیر فرقے قرآن شریف کو پڑھ کر اس کے قائل ہیں کہ یہ سب باتیں اس میں مذکور ہیں وید کی نسبت بھی یہی اقرار کرسکیں ایسا ہی خدا کی ہستی اور توحید کے دلائل جو قرآن شریف میں لکھے ہیں جو مخالف فرقے اِس کے قائل ہیں یہ سب آریہ صاحبان وید میں سے نکال کر ہم کو دکھلاویں تو ہم 3ہزار روپے نقد ان کو دینے کو تیار ہیں۔ افسوس! کہ یہ کس قدر جھوٹ