غرض اسی وجہ سے مضمون پڑھنے والے نے اس نشانی کا ذکر نہیں کیا کہ یہ وید کا بیان ایک غلط بیان ہے۔ غالباً اُس کو یہ بات سوجھ گئی ہے کہ اس نشانی کے پیش کرنے سے وید کا تمام تاروپود جھوٹ کا مجموعہ ثابت ہوگا اور نہ صرف جھوٹ بلکہ اس کی جہالت اور ناواقفیت بھی ثابت ہوگی کہ ایسا خدا کے قانون قدرت سے بے خبر ہے کہ رُوح کو شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر نازل کرتا ہے حالانکہ گھاس پات کے مادہ کے اندر خود کیڑے موجود ہیں اُن پر کونسی شبنم پڑی تھی۔ اِس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ زمین کے سب نباتات جمادات حیوانات کیڑوں سے بھرے ہوئے ہیں اور زمینی مادہ کے سب کچھ اندر ہے اوپر سے کچھ نہیں آتا۔ کیا وید کے رشیوں کے معدہ اور دماغ اور دوسرے اعضاء میں کیڑے نہیں تھے؟ اورمرد اور عورت کی منی بھی کیڑوں سے خالی نہیں۔ اور زمین پر یا زمین کے نیچے کونسا ایسامادہ ہے جو کیڑوں سے خالی ہے۔ آریوں کو خیال کرنا چاہئے تھا کہ کب اور کس راہ سے اُن پر شبنمی رُوح پڑگئی۔ آخر جھوٹ کی کوئی حد ہے لیکن وید تو جھوٹ بولنے میں حد سے بڑھ گیا اور اس نے خدا کے بدیہی اور محسوس و مشہود اور قدیم قانون قدرت کو ایسا اپنے ہاتھ سے پھینک دیا جیسا کہ کوئی ایک کاغذ کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھینک دے۔ اور مضمون پڑھنے والے کو ایک اور نشانی الہامی کتاب کی پیش کرنی چاہئے تھی اور اُس کا پیش کرنا تو بہت ضروری تھا معلوم نہیں کہ اُس نے وہ نشانی کیوں پیش نہ کی شاید بھول گیا اور وہ نشانی نیوگ ہے یعنی یہ کہنا چاہئے تھا کہ الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ وہ نیوگ کی تعلیم دے یعنی اس میں یہ تعلیم پائی جائے کہ جب کسی شخص کے گھر میں لڑکا پیدا نہ ہو تو وہ اپنی پیاری بیوی کو دوسرے سے ہم بستر کراوے اور جب تک لڑکا پیدا نہ ہو اِسی طرح ہمیشہ غیر مردوں سے اپنی بیوی کی مٹی پلید کراتا رہے اور شاید یہ نشانی الہامی کتاب کی اِس لئے اُس نے ذکر نہیں کی کہ اس کو محسوس ہوگیا کہ یہ دیّوثی کی بات ہے