جسؔ میں یہ مذکور ہو کہ رُوح بدن سے نکل کر پھر شبنم کی طرح گھاس پات پر پڑتی ہے اور دو۲ ٹکڑے ہوکر مرد اورعورت کے اندر چلی جاتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِس نشانی کاذکر کرنے سے وہ اِس وجہ سے ڈر گیا کہ اس سے وید کی پورے طور پر پَردہ دَری ہو جائے گی کیونکہ تمام دنیا جانتی ہے کہ وید نے یہ صریح صریح جھوٹ بولا ہے اورخدا کے مقرر و معیّن قانون کے برخلاف بیان کیا ہے اور جھوٹ بھی ایسا کھلا کھلا جھوٹ کہ بدیہی اور مشہودہ محسوسہ امور کی مخالفت کی ہے۔ طبعی تحقیقاتوں سے ثابت ہے کہ زمین کی ہر ایک چیز میں ایک جاندار کیڑے کا مادہ موجود ہے یہاں تک کہ زنگ خوردہ لوہے میں بھی کیڑا پیدا ہو جاتا ہے اور عجیب تر یہ کہ بعض پتھروں میں بھی کیڑا دیکھا گیا ہے اور ہر ایک قسم کے اناج اورہر ایک قسم کے پھل جب بہت مدّت تک رکھے جائیں تو ان میں بھی کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب انسان موت کے بعد دفن کیا جاتا ہے تو رفتہ رفتہ تمام بدن اُس کا کیڑوں سے بھر جاتا ہے اور سب سے عجیب تر یہ کہ ایک مشہور درخت ہے جس کو گولر کہتے ہیں اُس کا پھل جب تک سبز ہوتا ہے اس میں کوئی کیڑا نہیں ہوتا اور جیسے جیسے پکتا جاتاہے اسی کے مادہ میں سے کیڑے پیدا ہوتے جاتے ہیں۔ اور جب اس پھل کو چیرا جائے تو وہ کیڑے پرواز بھی کر جاتے ہیں اور بعض وقت ایک انڈے میں جو مرغی اور بطخ وغیرہ کا ہو جب سڑ جائے تو بجائے ایک بچہ کے صدہا کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ تمام امور دلالت کر رہے ہیں کہ یہ راز ہی اور ہے۔ یہ وہی راز ہے جس کی نسبت ہم کہتے ہیں کہ نیستی سے ہستی ہوئی۔ مثلاً گولر کا ایک پھل چیرکر دیکھواُس میں کوئی کیڑا نہیں ہوتا اور ہندو مسلمان سب اس کو کھاتے ہیں اور پھر جب پک جاتا ہے تو وہی مادہ کیڑے بن جاتے ہیں۔ اب اس کو اگر نیستی سے ہستی نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ اسی طرح ہم نیستی سے ہستی مانتے ہیں۔ جس پر مشاہدہ گواہ ہے یہی قانون قدرت ہے۔ اس میں وید نے بڑی بھاری غلطی کھائی ہے جو ہرگز معافی کے لائق نہیں۔ کیا ایسے وید کو ہم قانونِ قدرت کے مطابق کہہ سکتے ہیں ؟