اور ؔ بڑی بے غیرتی کا کام ہے کہ باوجودیکہ نکاح کا تعلق بدستور ہے اپنی بیوی کو دوسرے سے ہمبستر کراوے اور نہ صرف ایک دو دن کے لئے بلکہ ایک دراز مدّت کے لئے غیروں کے بستر پر اُس کو لٹاتا رہے اس سے معلوم ہو تا ہے کہ وید کے چاروں رشی نیوگ کے پاک عمل کے ضرور کاربند ہوں گے۔ اور شاید اُن کے پوتر ہونے کی یہی نشانی ہوگی تبہی تو انہوں نے دوسروں کو وہی تعلیم دی جس پر آپ کا ربند تھے۔
مگر اس زمانہ کے اکثر ہندو دیکھے گئے ہیں کہ جب کہیں نیوگ کا ذکر آتا ہے تو مارے ندامت کے منہ چھپاتے ہیں یا بھاگنے لگتے ہیں۔ ایک کتاب میں مَیں نے پڑھا ہے کہ ایک بنگالی صاحب بڑے شوق سے آریہ سماج میں داخل ہوئے تھوڑے دنوں کے بعد ان کا کوئی پرانا دوست برہمو مذہب کا ان کی ملاقات کے لئے گیا اور آہستہ آہستہ بات چلاکر اُس نے نیوگ کا ذکر کردیا وہ بیچارہ بنگالی آریوں کے پنجہ میں توگرفتار تھا اس نے کہا کہ نیوگ کیا ہوتا ہے تب برہمو صاحب نے اس کی تفصیل سنادی کہ آریوں کے لئے وید کا یہ حکم ہے کہ اگر نرینہ اولاد پیدا نہ ہو تو اپنی عورت کو بغیر اس کے جو طلاق دی جائے دوسرے سے ہمبستر کراویں اور جب تک اولاد نہ ہو اسی طرح اپنی بیوی کا غیر مرد سے منہ کالا کراتے رہیں جب اس غریب بنگالی نے یہ بات سنی تو چونک اٹھا اور کہا کہ یہ آریہ سماج پر سراسر تہمت ہے بھلا ایسی بے حیائی اور ناپاکی کی تعلیم ویدمیں کیونکر ہوسکتی ہے ؟ اور وید کے چار رشی جو پوتر تھے ایسی گندی تعلیم کیونکر دے سکتے تھے؟ تب برہمو صاحب نے بہت ادب اور نرمی سے ستیارتھ پرکاش اور وید بھاش پنڈت دیانند کا اپنی بغل میں سے نکال کر دونوں ان کی خدمت میں پیش کر دئیے اور نہایت ملائمت سے عرض کیا کہ آپ نیوگ کے بارہ میں یہ چند سطریں پڑھ لیں جب اُس بنگالی نے جو شریف اور غیرتمند تھا وہ مقام پڑھا جہاں پنڈت دیانند وید کی شرتیوں کے حوالہ سے یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر لڑکا نہ ہو تو ضرور تم لوگ اپنی استریوں کو غیر لوگوں سے ہمبستر کراؤ اور اس طرح پر نرینہ اولاد حاصل کرو ورنہ تمہاری مکتی نہیں ہوگی یہ تعلیم پڑھتے