توّاب ہے یعنی بہت رجوع کرنے والا سو بندہ کا رجوع تو پشیمانی اور ندامت اور تذلل اور انکسار کے ساتھ ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا رجوع رحمت اور مغفرت کے ساتھ اگر رحمت خدا تعالیٰ کی صفات میں سے نہ ہو تو کوئی مَخلصینہیں پاسکتا۔ افسوس! کہ ان لوگوں نے خد ا تعالیٰ کی صفات پر غور نہیں کی اور تمام مدار اپنے فعل اور عمل پر رکھا ہے مگر وہ خدا جس نے بغیر کسی کے عمل کے ہزاروں نعمتیں انسان کے لئے زمین پر پیدا کیں۔ کیا اس کا یہ خُلق ہوسکتا ہے کہ انسان ضعیف البنیان جب اپنی غفلت سے متنبہ ہوکر اس کی طرف رجوع کرے اور رجوع بھی ایسا کرے کہ گویا مر جاوے اور پہلا ناپاک چولہ اپنے بدن پر سے اُتار دے اور اُس کی آتشِ محبت میں جل جائے تو پھر بھی خدا اس کی طرف رحمت کے ساتھ توجہ نہ کرے کیا اِس کا نام خدا کا قانون قدرت ہے ؟ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ مضمون پڑھنے والے نے اس بات پر کئی جگہ زور دیا کہ الہامی کتاب کے مندرجہ ذیل نشان ہیں۔ (۱) وہ ابتدائے آفرینش میں ہو۔ (۲) اس میں کوئی بات خلاف قانون قدرت نہ ہو۔ (۳) اُس کی تعلیم عالمگیر ہو۔ (۴) وہ کسی خاص ملک کی زبان نہ ہو۔ (۵)کوئی تاریخی واقعہ اس میں درج نہ ہو۔(۶) وہ تمام دینی دنیوی علوم کا سرچشمہ ہو۔ (۷) ملہمین کی زندگیاں پوتّر یعنی پاک ہوں۔(۸) ایشر کے اعلیٰ درجہ کے صفات اس میں درج ہوں۔ (۹) اُس میں اعلیٰ اخلاق سکھلائے گئے ہوں۔ (۱۰) وہ کتاب اپنے آپ میں مکمل ہو۔ (۱۱) اُس میں اختلاف نہ ہو۔ (۱۲) کسی کی اُس میں طرفداری نہ ہو۔ (۱۳) اُس میں ایسی باتیں نہ ہوں کہ فلاں موقع پر بے انصافی کی۔ اور فلاں کام کرکے پچھتایا۔ فلاں کام میں مکاری کی۔ دوسروں کے لوٹنے کا حکم دیا۔ پیدائش او رفنا کے بارے میں صحیح صحیح حالات درج ہوں۔ (۱۴) راجا پرجا اور والدین اور اولاد وغیرہ سب کے حقوق انصاف سے درج ہوں۔ (۱۵) اس میں ترمیم و تنسیخ نہ ہو اور نہ ہونے کی ضرورت ہو۔ وہ خاص ایشر کی زبان ہو۔