وؔ رنمنٹ کو آخرکار ایک قانون جاری کرنا پڑا۔
دوسرا حصہ
اُن حملوں کے ردمیں جو آریہ مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے ہیں
أ
مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ تو بہ کا مسئلہ خلاف قانون قدرت ہے اس سے مطلب اُس کا قرآن شریف پر حملہ کرنا ہے۔ گویا قرآن شریف میں خلاف قانون قدرت کے تعلیم پائی جاتی ہے۔ اگرچہ ہم توبہ کے بارے میں اس سے پہلے بھی ذکر کرچکے ہیں مگر پھر مختصر طورپر بیان کرنا مضائقہ نہیں۔ یاد رہے کہ ہمیں بار بار افسوس آتا ہے کہ تعصب کی وجہ سے ان لوگوں کی عقل کیوں ماری گئی ہے۔ واضح ہو کہ توبہ لغت عرب میں رجوع کرنے کو کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کا نام بھی توّاب ہے یعنی بہت رجوع کرنے والا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب انسان گناہوں سے دستبردار ہو کر صدق دل سے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس سے بڑھ کر اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور یہ امر سراسر قانونِ قدرت کے مطابق ہے کیونکہ جب کہ خدا تعالیٰ نے نوع انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ جب ایک انسان سچے دل سے دوسرے انسان کی طرف رجوع کرتا ہے تو اُس کا دل بھی اُس کے لئے نرم ہو جاتا ہے تو پھر عقل کیونکر اِس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ بندہ تو سچے دل سے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے مگر خدا اس کی طرف رجوع نہ کرے بلکہ خدا جس کی ذات نہایت کریم و رحیم واقع ہوئی ہے وہ بندہ سے بہت زیادہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اِسی لئے قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کا نام جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے