واضح ہو کہ یہ تمام نشانیاں الہامی کتاب کی جو مضمون پڑھنے والے نے قرار دی ہیں وہ اس لئے قرار نہیں دیں کہ عقل اور انصاف کا مقتضٰی یہی ہے بلکہ وید کی نسبت جو کچھ ان کا خیال ہے وہی نشانیاں قرار دیدی ہیں اور پھر بعد اس کے قرآن شریف پر حملے کئے ہیں یہ شخص اپنے نہایت تعصب کی وجہ سے اِس قدر دیوانہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا لیکھرام کا بھی دادا ہے۔ تعصب اور نادانی بھی کیا بلا ہے کہ دونوں مل کر ایک خود غرض شخص کو اندھا کر دیتی ہیں۔ دراصل الہامی کتاب کے لئے دو نشانیاں ہی کافی تھیں اور وہ یہ کہ (۱) الٰہی طاقت اُس کے اندر موجود ہو (۲) جس غرض کے لئے آئی ہے اُس غرض کو اُس کی تعلیم پوری کرسکے یعنی انسان کو خدا تک پہنچنے کے لئے جو ضرورتیں ہیں اُن تمام ضرورتوں کا سامان اس میں موجود ہو اور ایسے کھلے کھلے دلائل ہوں جو یقین دلا سکیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہے اور بڑی بات یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے خدا تعالیٰ کی ہستی کا اُن دلائل کے ساتھ پتہ دے جو انسانی طاقت سے باہر ہیں۔ اور اُس کے اندر ایک ایسی طاقت ہو کہ وہ دور افتادہ انسانوں کو خدا تک پہنچا سکے اور ان کے اندرونی گندوں کو دُور کرسکے اور اُن کو ایک پاک حالت بخش سکے اور صاف ظاہرہے کہ بڑی اوراوّل علامت طبیب کی یہی ہے کہ وہ اکثر بیماروں کو اچھا کردے اور صحت زائلہ کو بحال کرکے دکھلاوے اور دُور شدہ تندرستی کو دوبارہ قائم کردے سو انبیاء علیہم السلام طبیب رُوحانی ہوتے ہیں اِس لئے روحانی طور پر ان کے کامل طبیب ہونے کی یہی نشانی ہے کہ جو نسخہ وہ دیتے ہیں یعنی خدا کا کلام۔ وہ ایسا تیر بہدف ہوتا ہے کہ جو شخص بغیر کسی اعراض صوری یا معنوی کے اس نسخہ کو استعمال کرے وہ شفا پا جاتا ہے اور گناہوں کی مرض دور ہو جاتی ہے اور خدا ئے تعالیٰ کی عظمت دل میں بیٹھ جاتی ہے اور اس کی محبت میں دل محو ہو جاتا ہے کیونکہ جس چیز کا نام عذاب رکھا گیا ہے وہ یہی توعذاب ہے کہ انسان کا خدا سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ اپنی نفسانی خواہشوں سے تعلق شدید ہو جاتا ہے اور ان نفسانی خواہشوں کی ایسی پرستش کرتا ہے اور ایسے طورسے اُن کی طلب میں لگا رہتا ہے کہ گویا وہی نفسانی خواہشیں اُس کا خدا ہے۔ پس جو کتاب اِن سفلی آلائشوں کو دُور کرتی ہے اور خدا تعالیٰ