ہلاکؔ کروں آخر وہ بھی تو دراصل انسان ہے کیا یہ پیار ہے؟ ایسا ہی شہد کی مکھیوں کے ہزاروں بچے تلف کرکے شہد نکالتے ہیں کیا یہ پیار ہے؟ گائیوں کا دُودھ جو اُن کے بچوں کا حق ہے آپ پی لیتے ہیں کیا یہ پیار ہے؟ ہر ایک قطرہ پانی میں ہزاروں کیڑے ہوتے ہیں جو دراصل بقول اُن کے انسان ہیں وہ پانی پی کر اُن کیڑوں کو ہلاک کرتے ہیں کیا یہ پیار ہے اور سچ تو یہ ہے کہ وید نے انسانوں کی ہمدردی بھی نہیں سکھلائی۔ سکھوں کے عہد میں ہزاروں غریب مسلمان صرف گائے کے ذبح کا شبہ ہونے کی وجہ سے قتل کئے گئے تھے۔ ایسا ہی صدہا ہندو لوگ ہزارہا من گیہوں وغیرہ اناج کھاتوں میں دفن رکھتے ہیں اور انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کوئی سخت قحط پڑے اور خلق اللہ پر تباہی آوے تب وہ غلہ فروخت کرکے مالدار ہو جائیں پس جس وید نے یہ نہیں سکھلایا کہ انسانوں سے پیار کیا جاوے اور اُن کا بُرانہ مانگا جاوے اس پر کیونکر اُمید رکھیں ؟ کہ اُس نے یہ سکھلایا ہوگا کہ دوسرے جانوروں سے پیار کرو۔ مگر جیسا کہ قرآن شریف کی رُو سے یہ منع ہے کہ کسی قوم سے سُود مت لو خواہ وہ مسلمان ہیں یا ہندو یا عیسائی۔ ایسا ہی قرآن شریف نے اِس بات
سے بھی منع کیا ہے کہ اناج کو اپنے طمع اور غرض نفسانی سے لوگوں سے روک رکھیں اور اس کے فروخت کے لئے کسی قحط کے منتظر رہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ نجس اور خبیث لوگوں کا کام ہے مگر افسوس! کہ ایسے لوگ آریوں میں لاکھوں پائے جاتے ہیں۔ اگر وید میں ممانعت ہوتی تو اس کثرت سے یہ بُرے کام ہندوؤں میں ہرگز نہ ہوتے۔ وہ شخص سخت چنڈال اور پلید ہوتا ہے جو اپنے نفس کی بھلائی کے لئے تمام دُنیا کا بدخواہ ہو اور اگر اِس کے برخلاف وید کی کوئی تعلیم ہے تو ہمیں دکھلاؤ بلکہ میں نے سنا ہے کہ بعض اِس قسم کے ہندوجن کے پاس بہت غلہ ہے روغنی روٹیاں پکاکر باہر لے جاتے ہیں اور اُن پر پاخانہ پھرتے ہیں تا اُس کام سے پرمیشر ناراض ہو جاوے اور قحط زیادہ پڑے۔ ایسا ہی قرضہ کے وقت سُود پر سُود چڑھا کر انجام کار غریب زمینداروں کی زمینیں اپنے قبضہ میں کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے