پیدا کرنے سے معذور ہے یہ دوسرا جھوٹ ہے کیونکہ ابھی ہم ثابت کر آئے ہیں کہ ؔ نیست سے ہست ہوتا ہے کیونکہ رُوحوں کے بارے میں صرف دو پہلو تجویز ہوسکتے ہیں۔ (۱) ایک تو یہ کہ ایساخیال کیا جاوے کہ روح پیدا نہیں ہوتی بلکہ جسم سے نکل کر پھر واپس آتی ہے اور شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑ کر کسی مرد کی غذا ہو جاتی ہے اور اس طرح پیٹ کے اندر چلی جاتی ہے۔ سو ہم ابھی ثابت کر آئے ہیں کہ یہ بات بالکل جھوٹ ہے اور مشاہدہ بالکل اِس کے برخلاف گواہی دے رہا ہے اور نیز اس سے رُوح کی تقسیم لازم آتی ہے۔ (۲) دوسرا پہلو روح کے بارے میں یہ ہے کہ وہ پیدا ہوتی ہے باہر سے نہیں آتی۔ اس پہلو کی سچائی دو طور سے ثابت ہوچکی ہے۔ اوّل اِس طور سے کہ جب روح کاواپس آنا ممتنع اور محال ثابت ہوا تو پھر دوسرا پہلو باقی رہ گیا کہ وہ پیداہوتی ہے۔ اور دوسرے اِس طور سے کہ چشم دید مشاہدات گواہی دے رہے ہیں کہ ضرور روح پیدا ہوتی ہے اور ہم بیان کرچکے ہیں کہ مثلاً جو حیوان گوشت ہی کھاتے ہیں یا وہ کیڑے مکوڑے جو زمین کے اندر پیدا ہوتے ہیں اُن پر تو کوئی رُوح شبنم کی طرح آسمان سے گرتی نہیں بلکہ یہ ا مر بھی محسوس و مشہود ہے کہ ہرایک مادہ جو سڑجاتا ہے تو ہمارے دیکھتے دیکھتے ہزاروں کیڑے اُس میں پیدا ہو جاتے ہیں اور کوئی روح آسمان سے اُ ن پر گرتی نظر نہیں آتی۔ پس اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرور رُوح پیدا ہوتی ہے۔ غرض جبکہ یہ امر محسوس و مشہود ہے اور ہم بچشم خود روح کا پیدا ہونا ہر روز دیکھتے ہیں مگر آسمان سے گرنا نہیں دیکھتے تو جس کتاب میں یہ بات درج ہے کہ وہ شبنم کی طرح ہوکر آسمان سے برستی ہے ایسی کتاب کے جھوٹے ہونے میں کیا کلام ہے جبکہ یہ ثابت ہوگیا کہ روح آسمان سے نہیں گرتی تو اب اس بحث کی ضرورت نہیں کہ خدا کیونکر نیست سے ہست کر لیتا ہے کیونکہ جبکہ نیست سے ہست ہونا ہرروز مشاہدہ میں آتا ہے تو پھر کسی بے حیا کا کام ہے جو مشہود و محسوس سے انکار کرے۔ درحقیقت خدا کے سارے کام انسان کے فہم سے برتر ہیں مثلاً ایک بچہ انسان کا صرف ایک قطرہ منی سے پیدا کیا جاتا ہے اور ہم بالکل نہیں سمجھ سکتے کہ