درحقیقت قادر مطلق ہے کیونکہ جبکہ مذکورہ بالا دلائل سے جو ابھی ہم لکھ چکے ہیں قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوگیا کہ رُوحیں انادی اور قدیم نہیں ہیں بلکہ وہ پیدا ہوتی ہیں اور وید کا پرمیشر کہتاؔ ہے کہ میں اُن روحوں کا پیدا کرنے والا نہیں ہوں تو اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ اُس کے نزدیک ایک اور پرمیشر ہے جو رُوحوں کو پیدا کرتا ہے اور اگر کہو کہ اگر پرمیشر کو عام طور پر قادر مطلق مانا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ پرمیشر اپنا ثانی بھی پیدا کر سکتا ہے اور خودکشی بھی کرسکتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں امر اس کی صفات کاملہ کے منافی ہیں چونکہ وہ پہلے سے بتلاچکا ہے کہ وہ واحدلاشریک ہے اور نیز بتلا چکا ہے کہ وہ ازلی ابدی ہے موت اس پر وارد نہیں ہوتی اور یہ دونوں امر اُس کی صفات قدیمہ میں داخل ہیں تو وہ اپنی صفات قدیمہ کے برخلاف کوئی کام کیوں کرے گا؟اور چونکہ کمال تام اس کا واحد لاشریک ہونے اور ازلی ابدی ہونے میں ہے۔ پس وہ ایسے کام کی طرف کیوں متوجہ ہوگا جو اس کے کمال تام کے منافی ہے اور وہ اس بات سے برتر و اعلیٰ ہے کہ کوئی نقص اپنے لئے روا رکھے کیونکہ کسی قسم کا نقص اس کی ذات بے عیب کے برخلاف ہے مگر پیدا کرنا تو اس کی ذات بے عیب کے برخلاف نہیں بلکہ پہلی صفت تو اس کی صفات کاملہ میں سے پیدا کرنا ہی ہے اور وہی عقلی طور پر اس کی شناخت کے لئے ایک ذریعہ ہے اگر وہ پیدا ہی نہیں کرسکتا اور ارواح اور ذرات سب خودبخود ہیں تو کیونکر معلوم ہو؟ کہ وہ موجود بھی ہے ۔ کیا صرف ارواح اور ذرات کے جوڑنے سے اس کی ذات کا پتہ لگ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ جو چیزیں قدیم سے خودبخود ہیں اور تمام قوتیں ان کی خود بخود ہیں تو وہ چیزیں بذریعہ اپنی انہیں قوتوں کے اتصال اور انفصال کی بھی قدرت رکھ سکتی ہیں۔ غرض خدا کی شناخت کی ضروری اور اوّل صفت یہی ہے کہ وہ پیدا کنندہ ہو۔ اور تبھی وہ قادر مطلق اور سرب شکتی مان کہلا سکتا ہے کہ یہ قوت اُس میں پائی جائے۔ پس جب کہ وید کا پرمیشر پیدا کرنے پر قادر نہیں اور پھر اُس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں سرب شکتی مان ہوں۔ تو اِس میں کیا شک ہے کہ اُس نے جھوٹ بولا ہے اور جھوٹ بھی ایسا کہ خود اُس کے اقرار سے ثابت ہے۔ اور کہنا کہ نیستی سے ہستی نہیں ہوسکتی اس لئے پرمیشر روحوں کے