ایک قطرہ سے انسان کیونکر پیدا ہو جاتا ہے اور ہم سمجھ نہیں سکتے کہ دیکھنے والی آنکھیں کیوؔ نکر اس میں پیدا ہو جاتی ہیں اور ہم اس بات کی تہ تک نہیں پہنچ سکتے کہ سننے والے کان کیونکر اس میں بنائے جاتے ہیں اور ہمارے خیال میں نہیں آتا کہ انسان کی صورت اور ہاتھ اور پَیر اور دل اور دماغ اور جگر اور تمام اعضا کیونکر اس میں بن جاتے ہیں۔ پس بلاشُبہ یہ تمام امور ہمارے نزدیک ایسے ہی محال ہیں جیسے نیست سے ہست ہونا کیونکہ ہم اُن کے بنانے پر قادر نہیں اور ہماری عقل کوئی فلسفی دلیل اس بات پر قائم نہیں کرسکتی کہ کیونکر یہ تمام اعضا بن جاتے ہیں۔ پس جیسا کہ ان تمام اعضاء کا بننا ہماری عقل سے برتر ہے ایسا ہی رُوح کا بھی پیدا ہونا ہماری عقل سے برتر ہے اور جبکہ ہم واقعی طور پر ثابت کرچکے ہیں اور بچشم خود دیکھ چکے ہیں کہ رُوح پیدا ہوتی ہے تو پھر امور مشہودہ محسوسہ سے ہم انکار کیوں کریں؟ ہماری عقل اور فہم سے جیسا کہ روح کا پیدا ہونا برتر ہے ایسا ہی ایک قطرہ سے انسان کا اپنی تمام قوتوں کے ساتھ بننا برتر ہے۔ پس یہ کمال بے حیائی ہے کہ جو ایک محال ہمارے نزدیک ہے اُس کو تو جائز سمجھ لینا اور جو دوسرا امر یعنی روحوں کا پیدا ہونا ہماری عقل اور فہم سے بر تر ہے اس کومحال اور ممتنع قرار دینا۔ خدا کے کارخانہ قدرت میں انسان کی مجال نہیں کہ کچھ دست اندازی کرسکے۔ ہزارہا اسرار ربوبیّت ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتے اور پھر مشاہدات کے ذریعہ سے ہمیں ماننے ہی پڑتے ہیں ۔ پس کیا ابھی تک اس میں کچھ شک ہے کہ مشاہدات ہمیں اس بات کے ماننے کے لئے مجبور کرتے ہیں کہ روحیں پیدا ہوتی ہیں اُوپر سے نہیں آتیں۔ مثلاً زمین کے نیچے کا طبقہ جو ستر۷۰ اسی۸۰ ہاتھ تک کھود کر پھر دکھائی دیتا ہے اس میں جاندار پائے جاتے ہیں۔ پس کیا کوئی عقل تجویز کرسکتی ہے کہ رُوح شبنم بن کر نیچے چلی جاتی ہے۔ پس جب کہ سچا واقعہ یہی ہے کہ رُوح پیدا ہوتی ہے تو اس نفس الامر کے برخلاف وید کے پرمیشر کا یہ بیان کہ رُوح شبنم کی طرح آسمان سے گرتی ہے یہ ایسا جھوٹا اور خلاف واقعہ بیان ہے کہ ایک بچہ بھی اس پر ہنسے گا۔ کیا وہ جانور جو صرف گوشت کھاتے