میں خیال گذرا کہ ضرور اس شخص نے کوئی چالاکی کی ہے جو یہ کتاب پیش کرتا ہے میں نے وعدہ کیا کہ چونکہ میں ناگری نہیں پڑھ سکتا اس لئے بعد میں تلاش کرکے وہ موقعہ اپنی کتاب میں لکھ دوں گا۔ پھر میں قادیان آیا اور ایک برہمو صاحب جو نیک طبع اور بے تعصّب تھے اور ؔ اُن کا نام نوبین چندر تھا میں نے ان کی طرف ایک خط لکھا کہ کیا آپ مجھے بتلا سکتے ہیں؟ کہ ایسا مضمون ستیارتھ پرکاش کے کس موقعہ پر ہے۔ اُن کا جواب آیا کہ یہ مضمون ستیارتھ پرکاش میں موجود ہے مگر یہ آریہ لوگ بڑے چالاک اور افترا پرداز ہیں۔ انہوں نے پہلی کتاب جس میں یہ مضمون تھا تلف کردی ہے اور نئی کتاب چھپوائی ہے اور اُس میں سے یہ مضمون نکال دیا ہے اور لکھا کہ وہ پہلی کتاب میرے پاس موجود ہے مگر اب میں لاہور سے جانے والا ہوں اور میں نے تمام کتابیں وطن کی طرف بھیج دی ہیں اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ بیس۲۰ دن کے اندر ستیارتھ پرکاش کے اُس مقام کی نقل کرکے بھیج دوں گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے وعدہ کے موافق اُس مقام کی نقل بھیج دی اور میں نے اُس کو اپنی کتاب سُرمہ چشم آریہ میں درج کردیا لیکن اب میں کہتا ہوں کہ گو آریوں نے ستیارتھ پرکاش سے وہ مقام اُڑا دیا تب بھی اُن کے اس عقیدہ کا جھوٹ ایسا صاف طور پرکھل گیا ہے کہ اب اس پر کوئی پردہ نہیں پڑ سکتا۔ کیونکہ تمام بروبحر میں جس طور سے ہر ایک حیوان کے بچوں میں جان پڑتی ہے وہ ایک ایسا طریق ہے جس سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ہر ایک روح اندر سے ہی پیدا ہو جاتی ہے باہر سے کوئی گذشتہ روح ہرگز نہیں آتی جیسا کہ ہم کئی مثالیں اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں۔
دوسرا جھوٹ وید کے پرمیشر کا جس کا وہ خود اقراری ہے اُس کا یہ قول ہے کہ وہ سرب شکتی مان ہے یعنی قادر مطلق ہے حالانکہ بقول آریہ سماج وید میں اُس نے اپنی کمزوری کا اعتراف کرکے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ نہ روحیں پیدا کرسکتا ہے نہ ذرات عالم پیدا کرسکتا ہے پس جب کہ وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتا تو کس بات کا قادر مطلق ہے کیا یہ سفید جھوٹ نہیں ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وید کے پرمیشر کے نزدیک ایک اور پرمیشر ہے جو