شبنم کی طرح کوئی روح کسی گھاس پات پر گرے تو یہ قاعدہ کیسے صحیح اور درست ہوسکتا ہے جو لوگ اِس بات کے قائل ہیں جو نیستی سے ہستی نہیں ہوسکتی اور بدن سے نکلی ہوئی روح پھر کسی راہ سے واپس آسکتی ہے اُن کا یہ فرض ہے کہ اس بات کو ثابت کریں کہ کس راہ سے اور کس طور سے روحؔ باہر سے اندر داخل ہوجاتی ہے اوروہ اس مواخذہ سے بَری نہیں ہوسکتے اور اس بار ثبوت سے اُن کے لئے سبکدوشی ممکن نہیں جب تک کہ وہ ہمیں یہ دکھلا نہ دیں کہ جس طرح اور جس طریق سے مثلاً ایک انسان کی روح اس کے جسم سے باہر نکل جاتی ہے اور اس کے نکلنے میں کسی کو شک اور اختلاف نہیں ہوتا اسی طرح وہ روح کس راہ سے واپس آجاتی ہے؟ مگر ہمارے ذمّہ اِس بات کا ثبوت نہیں کہ کیونکر روح پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ ہم پیدا ہونے کا مشاہدہ کرا دیتے ہیں اور اس بارہ میں ہم ہزارہا نمونے پیش کرتے ہیں جیسا کہ ابھی ہم لکھ چکے ہیں۔ مگر ہمارے مخالف آریہ جو اُسی پہلی رُوح کو واپس لاتے ہیں یہ بار ثبوت ان کی گردن پر ہے کہ واپسی کی راہ ہمیں دکھلادیں۔ اگر وہ یہ بھی اقرار کریں کہ دیانند نے جھوٹ بولا ہے اورغلطی کی ہے تو صرف اس قدر اقرار سے اُن کا پیچھا چھوٹ نہیں سکتا بلکہ یہ بات اُن کے ذمّہ ہے کہ رُوح کی واپسی کی راہ ہمیں ثابت کرکے دکھلا دیں ورنہ حیااور شرم سے سوچیں کہ ہم تو اُن کو دکھلا رہے ہیں کہ روح پیدا ہوتی ہے مگر وہ ہمیں دکھلا نہیں سکتے کہ باہر سے آتی ہے۔ یہی اُن کا ایک عقیدہ ہے جس سے سارا وید رد ہو جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ بمقام ہوشیارپور مجھے ایک آریہ مرلیدھر نام سے مباحثہ کا اتفاق ہوا اور میں نے اُس کے آگے یہی بات پیش کی کہ دیانند کا یہ قول کہ رُوح شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اور اُس کو کوئی شخص کھا لیتا ہے تو روح اس ساگ کے ساتھ ہی اندر چلی جاتی ہے اور اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے یہ سراسر باطل قول ہے اوراس سے روح کا دو ٹکڑہ ہونا لازم آتا ہے اور اس تقریر میں مَیں نے ستیارتھ پرکاش کا حوالہ دیا جو دیانند کی ایک کتاب ہے تب مرلیدھر نے ستیارتھ پرکاش پیش کی کہ کہاں اس میں ایسا لکھا ہے تب میرے دِل