ہوتی ہے اورجب کہ محض گوشت سے بھی نطفہ پیدا ہوتا ہے اور اس سے اولاد پیدا ہوتی ہے توکیا ہم گمان کرسکتے ہیں؟ کہ مثلاً روح کسی بکری پر بھی پڑتی ہے اور اس کی کھال میں دھنس کر اُس کے گوشت میں رَچ جاتی ہے اور پھر بعد اس کے کسی خاص بوٹی میں وہ رُوح داخل ہوؔ تی ہے اور اُس کے اندر سرایت کر جاتی ہے اور پھر اُس بوٹی کے دو ٹکڑے ہوکر ایک ٹکڑا مرد کھا لیتا ہے اور دوسرا ٹکڑا عورت۔ گو وہ عورت اس مرد سے کتنے ہی فاصلہ پر ہو اور خواہ وہ گوشت بھی نہ کھاتی ہو۔ اور کیا ہم گمان کرسکتے ہیں کہ وہ درندے جو صرف گوشت ہی کھاتے ہیں جیسے شیر۔ بھیڑیا۔ چیتا۔ ان کی پیدائش کی روح بکریوں اور گائیوں وغیرہ حیوانات کی کھال پر بطور شبنم پڑتی ہے اورکیا یہ خیال گزر سکتا ہے؟ کہ پانی کی مچھلیوں کی روح اور دُوسرے تمام جاندار جو پانی کے اندر غرق رہتے ہیں اُن کی روح شبنم کی طرح ہوکر پانی میں پڑتی ہے اور سب سے غور کے لائق وہ کیڑے مکوڑے ہیں جو بیس۲۰ بیس۲۰ تیس۳۰ تیس۳۰ ہاتھ زمین کو کھود کر اُس کے عمیق پردہ کے اندر سے نکلتے ہیں اور ایسا ہی وہ نہایت چھوٹے کیڑے جو اُس کنوئیں کے پانی سے نکلتے ہیں جو نیا کھودا جاتا ہے اور ایک ایک قطرہ میں ہزارہا کیڑے ہوتے ہیں کہاں سے اور کس راہ سے یہ شبنمی روح ان کے اندر داخل ہو جاتی ہے۔ پس اگر کوئی شخص مذہبی تعصب سے دیوانہ اورسودائی اور پاگل ہوجائے تو یہ اور بات ہے ورنہ ان تمام مثالوں کی رُو سے جو ذکر ہوچکی ہیں ماننا پڑتا ہے کہ یہ عقیدہ آریوں کا کہ گویا رُوح آسمان سے شبنم کی طرح ہوکر کسی گھاس پات پر پڑتی ہے بالکل جھوٹا ہے۔ اگر تم مثلاً دودھ کو جو باسی ہوکر سڑنے کو ہے ہاتھ میں لو اورخوب اس دُودھ میں نظر لگائے رکھو تو تمہارے دیکھتے دیکھتے ہزارہا کیڑے بن جائیں گے۔ ایسا ہی اگرکوئی دال ماش یا چنے وغیرہ کی جو خوب پکائی جائے جس کے اندر کے کیڑے بھی مرگئے ہوں جب وہ دال باسی ہوجائے اور سڑ جائے تو اس میں بھی ہزارہا کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں۔
اب عقلمند کے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ اگرکسی مادہ میں جان پڑنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ