وہ سب سے زیادہ ظاہر ہے اور پھر باوجود سب سے زیادہ ظاہر ہونے کے سب سے پوشیدہ ہے اور پھر فرمایا3 ۱؂ یعنی خدا ہر ایک چیز کا نور ہے۔ اُسی کی چمک ہر ایک چیز میں ہے خواہ وہ چیز آسمان میں ہے اور خواہ وہ زمین میں اور پھر فرمایا کہ3 3 ۲؂ یعنی خدا ہر ایک چیز پر احاطہ کرنے والا ہے اور پھر فرمایا3 3۳؂ یعنی ہم انسان کی رگ جان سے بھی اس سے نزدؔ یک تر ہیں اور پھر فرمایا3۴؂ یعنی وہی خدا ہے اُس کے سوا کوئی نہیں وہی ہر ایک جان کی جان اور ہر ایک وجود کا سہارا ہے۔ اِس آیت کے لفظی معنے یہ ہیں کہ زندہ وہی خدا ہے اور قائم بالذّات وہی خدا ہے ۔ پس جب کہ وہی ایک زندہ ہے اور وہی ایک قائم بالذّات ہے تو اِس سے صاف ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص جو اس کے سوا زندہ نظر آتا ہے وہ اُسی کی زندگی سے زندہ ہے اور ہر ایک جو زمین یا آسمان میں قائم ہے وہ اُسی کی ذات سے قائم ہے۔ اور پھر فرمایا 3 ۵؂ یعنی وہی خدا زمین میں ہے اور وہی خدا آسمان میں اور پھر فرمایا 33 3۶؂ الخ یعنی جب تین آدمی کوئی پوشیدہ باتیں کرتے ہیں تو چوتھا اُن کا خدا ہوتا ہے اور جب پانچ کرتے ہیں تو چھٹا ان کا خدا ہوتا ہے۔ ایسا ہی بہت سی اور آیات میں باربار فرمایا گیا ہے کہ خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے یہاں تک کہ وہ ہرایک جان کی بھی جان ہے اور ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ اِسی ایک پہلو تک معرفت الٰہی کے مسئلہ کو ختم کرتا کہ خدا مخلوق سے الگ نہیں تو ہندوؤں کی طرح پر مسلمانوں میں بھی مخلوق پرستی شروع ہو جاتی کیونکہ اس صورت میں خدا میں اور مخلوق میں کوئی مابہ الامتیاز باقی نہ رہتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ آخر کار وید کے ذریعہ مخلوق پرستی شروع ہوگئی کیونکہ ہر جگہ اگنی اور وایو اور سورج اورچاند کو بطور معبود بیان کیا گیا ہے آخر لوگوں نے ان چیزوں کو