خدا ہی سمجھ لیا اور فرض کروکہ اگنی وغیرہ پرمیشر کے نام ہی تھے لیکن پھر بھی خدا کا یہ اسم اعظم کہ وہ ہر ایک مخلوق سے وراء الوراء مقام پر ہے اور مصنوعات سے برتر و بلند ہے وید میں بیان نہیں کیا گیا۔ پس اِسی وجہ سے یہ تمام باطل مذہب وید کے ذریعہ سے پیدا ہوگئے۔ بلکہ ویدبات بات میں مخلوق پرستی کی طرف کھینچتا ہے اور خدا تعالیٰ کو محدود ٹھہراتا ہے۔ چنانچہ یجر وید ادھیا نمبر ۳۱ منتر ۱۹ میں لکھاؔ ہے کہ پرمیشر حمل کے اندر رہتا ہے اور تولّد ہوکر بہت سی صورتیں اور شکلیں ہو جاتا ہے اور فاضل لوگ اُس پرمیشر کو جو رحم میں رہتا ہے ہر طرف سے دیکھتے ہیں۔ اب دیکھو کہ وید نے پرمیشر کو کیسا محدود کر رکھا ہے کہ ہر ایک محدود چیز کا کام اُس کو دیا گیا اور بموجب بیان رگ وید کے سورج۔ اگنی۔ وایو۔ سب پرمیشر ہی ہیں۔ اور پھر یہ بھی لکھا ہے کہ جیسے پرمیشر رحم میں رہتا ہے ایسا ہی وہ سورج کے سنہری پردہ میں بھی رہتا ہے جیسا کہ یجر وید کے ایش اپنشد منتر ۱۵ و ۱۶ سے ظاہر ہے اور ایسا ہی وہ ناف سے د۱۰س انگلی کے فاصلہ پر بھی ہے جس سے ہندوؤں میں لِنگ پوجا شروع ہوگئی۔ پس اگر وید قرآن شریف کی طرح خدا تعالیٰ کی تنزیہی صفات بھی لکھتا اور صرف تشبیہی صفات پر حصر نہ رکھتا تو یہ طوفان مخلوق پرستی کا اس کے ذریعہ سے پیدا نہ ہوتا۔ قرآن شریف اِسی وجہ سے ہر ایک دھوکہ دہی کی بات سے محفوظ ہے کہ اُس نے خدا تعالیٰ کے ایسے طور سے صفات بیان کئے ہیں جن سے توحید باری تعالیٰ شرک کی آلائش سے بکلّی پاک رہتی ہے کیونکہ اول اُس نے خدا تعالیٰ کے وہ صفات بیان کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کیونکر وہ انسان سے قریب ہے اور کیونکر اُس کے اخلاق سے انسان حصہ لیتا ہے ان صفات کا نام تو تشبیہی صفات ہیں۔ پھر کیونکہ تشبیہی صفات سے یہ اندیشہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو محدود خیال نہ کیا جائے یا مخلوق چیزوں سے مشابہ خیال نہ کیا جائے اس لئے ان اوہام کے دُور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنی ایک دوسری صف