کے اِسْتوا کاذکر ہے جو عرش پر ہوا۔ جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔
3
3 ۱
یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جس نے چھ۶ دن میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور پھر عرش پر قرار پکڑا یعنی اوّل اس نے اس دُنیا کے تمام اجرام سماوی اور ارضی کو پیدا کیا اور چھ۶ دن میں سب کو بنایا ؔ (چھ۶ دن سے مراد ایک بڑا زمانہ ہے ) اور پھر عرش پر قرار پکڑا یعنی تنزّہ کے مقام کو اختیار کیا۔ یاد رہے کہ استوا کے لفظ کاجب علٰی صلہ آتا ہے تو اُس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ایک چیز کا اس مکان پر قرار پکڑنا جو اس کے مناسب حال ہو جیسا کہ قرآن شریف میں یہ بھی آیت ہے۔
3۲
یعنی نوح کی کشتی نے طوفان کے بعد ایسی جگہ پر قرار پکڑا جو اُس کے مناسب حال تھا یعنی اُس جگہ زمین پر اُترنے کے لئے بہت آسانی تھی سواسی لحاظ سے خدا تعالیٰ کے لئے اِسْتوا کا لفظ اختیار کیا یعنی خدا نے ایسی وراء الوراء جگہ پر قرار پکڑا جو اس کی تنزّہ اور تقدس کے مناسب حال تھی چونکہ تنزّہ اور تقدس کا مقام ماسوی اللہ کے فنا کو چاہتا ہے سو یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جیسے خدا بعض اوقات اپنی خالقیّت کے اسم کے تقاضا سے مخلوقات کو پیدا کرتا ہے پھر دوسری مرتبہ اپنی تنزّہ اور وحدتِ ذاتی کے تقاضا سے اُن سب کا نقش ہستی مٹا دیتا ہے۔ غرض عرش پر قرار پکڑنا مقام تنزّہ کی طرف اشارہ ہے تا ایسا نہ ہو کہ خدا اور مخلوق کو باہم مخلوط سمجھا جائے۔ پس کہاں سے معلوم ہوا کہ عرش پر یعنی اُس وراء الوراء مقام پر مقید کی طرح ہے اور محدود ہے۔ قرآن شریف میں تو جابجا بیان فرمایا گیا ہے کہ خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے3۳ یعنی جہاں کہیں تم ہو اُسی جگہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔ اِسی طرح قرآن شریف میں فرمایا ہے 33۴ یعنی خدا سب سے پہلے ہے اور باجود پہلے ہونے کے پھر سب سے آخر ہے اور