کاموں کے محتاج ہیں۔ انسانی وعظ و نصیحت ہرگز اُن کو کچھ کارگرنہ ہوگی۔ اُن کو سوچنا چاہیئے کہ اگر ہم بھی اپنے مضمون میں وہی طریق گالیوں کا اختیارکرتے اور اُن کے وید کے رشیوں کی نسبت وہی گندے اور ناپاک لفظ اس مجمع میں استعمال میں لاتے تو کیا وہ خوش ہوتے۔ اور میں خیال نہیں کرسکتا کہ وہ لوگ ایسے احمق اور نادان ہیں کہ اس بات کو محسوس نہیں کرسکتے کہ وہ الفاظ جو استعمال کئے گئے نہایت درجہ رنج دِہ اورجوش پیدا کرنے والے اورخطرناک تھے نہیں نہیں بلکہ وہ ضرور محسوس کرتے ہیں مگر عمداً چاہتے ہیں کہ دُکھ دیں اور فساد پیدا کریں عجیب تر یہ کہ اُن کے جلسہ کے پُررونق ہونے کے لئے ہماری جماعت ہی کے بڑے بڑے معزز آدمی باعث ہوئے تھے اور وہ ان کی لاف و گزاف پر بھروسہ کرکے دُور دُور سے ریل اور یکوں کے ہزارہا روپیہ کے اخراجات اُٹھاکر اور اپنے کاموں کاحرج کرکے ان کے جلسہ میں شریک ہوئے تھے اورہر ایک نے چار چار آنہ چندہ بھی ادا کیا تھا اور چونکہ وہ چار سو۴۰۰ کے قریب آدمی
تھے اِ س لئے اس جماعت کے چندوں سے بھی آریوں کو ایک سو روپیہ نقد وصول ہوگیا تھا۔ یہ تمام خرچ اور حرج ہماری جماعت نے محض اس لئے کیا تھا کہ آریوں نے اپنے ایک اشتہار کے ذریعہ سے جو ہندوستان سٹیم پریس لاہور میں چھاپا گیا تھا تمام فرقوں کو اپنے جلسہ میں بلایا تھا اور تسلی دی تھی کہ اس جلسہ میں کوئی مضمون خلاف تہذیب نہ پڑھا جائے گا۔ اور میری جماعت کے حاضر ہونے کے لئے خاص کر میری طرف چھ۶سات۷ خط لکھے تھے جن میں محض منافقانہ طور پر بہت انکسار ظاہر کیا گیا تھا مگر جب مہمانوں کے طور پر ہماری جماعت اُن کے جلسہ میں حاضر ہوئی تو آریوں کی طرف سے یہ مہمان نوازی کی گئی کہ ان کے پیارے اور بزرگ نبی علیہ السلام کی نسبت گندی گالیاں سنائی گئیں اور وہ لوگ آریوں کی بدزبانی سے نہایت دردمند اور زخمی دلوں کے ساتھ اپنے وطنوں کی طرف روانہ ہوئے۔
کیا یہی لوگ ہیں جو آئے دن صلح صلح کرتے ہیں۔ ہرایک شخص جو اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہے اور اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ غیرت رکھتا ہے اس کو خوب یاد رہے کہ یہ