اُنؔ کے دل کسی قدر درست ہوگئے ہوں اور اس تنبیہ سے کسی قدر انہوں نے سبق حاصل کرلیا ہو اور صلح پسندی کی خواہش ظاہر کی ہو۔ مگر پیچھے سے معلوم ہوا کہ یہ خیال ہمارا سراسر غلط تھا اور خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کی نسبت اُن کی بد زبانی اب پہلے سے بھی بہت بڑھ کر ہے کیونکہ پہلے کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ کسی جلسۂ مذاہب میں جو اپنی طرف سے انہوں نے قائم کیا ہو مسلمانوں کو مدعو کیا ہو اور پھر عین جلسہ کے وقت میں اُن کے بزرگ اور برگزیدہ پیغمبروں کو گالیاں دی ہوں ۔پس یہ پہلا موقعہ ہے جس میں آریوں نے اپنے مکان پر ہمیں بُلاکراور اُس مجمع میں پا۵۰۰نسو سے زیادہ مسلمان اکٹھے کرکے پھر گندی گالیوں کے ساتھ اُن کا دل دُکھایا۔ یہ وہ واقعہ ہے جس کو وہ کسی طرح پوشیدہ نہیں کرسکتے۔ بارہا یہ امر ثابت ہوچکا ہے کہ یہ لوگ تمام برگزیدہ نبیوں کے دشمن ہیں نہ حضرت آدم کو بدگوئی سے چھوڑیں نہ حضرت نوح کو نہ حضرت ابراہیم کو نہ حضرت یعقوب کو نہ حضرت موسیٰ کو نہ حضرت داؤد کو نہ حضرت عیسیٰ کو نہ ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسا کہ اُن کی کتابوں سے ظاہر ہے مگر افسوس کہ یہ بیباکی اور بدگوئی کا تخم بدقسمت دیانند اس ملک میں لایا اور دوسرے آریہ حسب مناسبت اس کے وارث ہوئے۔ خاص کر لیکھرام پشاوری جو محض نادان اور ابلہ تھا اُس کا خاص چیلا بنا۔ خیر وہ زمانہ تو گذر گیا مگر اس وقت مجھے بار بارافسوس آتا ہے کہ آریوں کے حال کے جلسہ میں کس قدر ہم نے نرمی اور ملائمت سے اُن کے بزرگوں کا ذکر کیا تھا جو سراسر صلح کاری سے بھرا ہوا تھا۔ اگر ان لوگوں میں ایک ذرّہ بھی حیا ہوتی اور کچھ بھی شرافت ہوتی تو مسلمانوں کے رُوبرو جو چار ۴۰۰سو کے قریب معزز اور شریف لوگ اُن کے مضمون کو سن رہے تھے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اوردوسرے انبیاء علیہم السلام کو مسلمانوں کے ایک مجمع کثیر کے رُوبرو اس قدر گندی گالیاں نہ دیتے کہ بجز نہایت خبیث آدمی کے کوئی شخص ایسے دلآزار اور پُرتوہین الفاظ زبان پر نہیں لاسکتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ آریوں کا تکبّر اور آریوں کی شوخی اور آریوں کی شرارت انتہا تک پہنچ گئی ہے اور اب وہ خدا کی اصلاح اور اس کے آسمانی