لوگ سانپوں سے بدتر ہیں ان کو مناسب تھا کہ اگرہمارے انبیاء علیہم السلام کی نسبت ایسا ہی دشنام آمیز مضمون سنانا تھا تووہ یہ کہہ کرمسلمانوں کو رخصت کر دیتے کہ ہمارا مضمون ایک گندہ مضمون ہے اس لئے ہم پسند نہیں کرتے کہ آپ لوگ اس مضمون کو سنیں۔ بلکہ انہوں نے تو اپنے مضمون کے سنانے کے لئے بلند آواز سے سب کو کہا کہ کل آپ لوگ ہمارا مضمون ضرور آکر سنیں اور ضرور آویں۔ مگر اُنہوں نے تہذیب کے وعدہ کو پورا نہ کیا بلکہ ۳؍دسمبر ۱۹۰۷ ء کے مضمون کے بعد جو ہماری طرف سے تھا پھر جب ہماری جماعت جو چار سو۴۰۰ کے قریب آدمی تھے اُن کا مضمون سننے کے لئے اُن کے جلسہ میں آئے تو اُنہوں نے نہایت بلند آواز سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کو وہ گالیاں دیں جن سے قریب تھا کہ جگر پھٹ جاتے۔ اُن میں سے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میری خلاف مرضی وہ مضمون عام جلسہ میں سنا گیا تھا بلکہ کچھ شک نہیں کہ اِس پر لے درجہ کی شرارت اور بدگوئی میں وہ سب شریک تھے اور اُن کے مشورہ سے یہ کام ہوا تھا اور یہی وجہ تھی کہ ایسے مضمون کو انہوں نے فی الفور روک نہ دیا بلکہ اکثر اُن کے ہنستے اور اُس گندے مضمون کے پڑھنے سے بہت خوش ہوتے اور کہتے تھے کہ بہت اچھا لکھا ہے اور خوب لکھا ہے۔
یہ ہے آریہ صاحبوں کی توحید اور وید کی سَتْ وِدّیا۔ جوشخص ہمارے مضمون کو پڑھے گاجو آریوں کے جلسہ میں ۳ ؍ دسمبر ۱۹۰۷ ء کی رات میں سنایا گیا اور پھر بمقابل اُس کے اُن کے اس مضمون کو دیکھے گا جو اُنہوں نے ۴؍ دسمبر ۱۹۰۷ ء کی رات کو پڑھا تو اس پر واضح ہو جائے گا کہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ اگر دُنیا میں کوئی بدی کرنے والی قوم ہے تو یہی قوم ہے۔ پادری صاحبان بھی اگرچہ خدا تعالیٰ کے مقدس اور برگزیدہ نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے میں دن رات مشغول ہیں لیکن انہوں نے اب تک کبھی ایسا نہیں کیا کہ مسلمانوں کو اپنے مکان میں مدعو کرکے اور مہذّبانہ تقریروں کا وعدہ دے کر پھر کوئی مضمون گندہ اور توہین آمیز سنایا ہو۔ اس قسم کی شوخ چشمی اور بدزبانی اور بیباکی