تم کچھ بھی اعتراض نہیں کرتے کیونکہ تم جانتے ہو کہ اس اعتراض کے وقت تمہاری خیر نہیں ہے پس یقیناًسمجھو کہ نیک مکر سے نہ خدا پر اعتراض ہوتا ہے نہ کسی گورنمنٹ پر۔ مناسب ہے کہ تم ذرا وید سے الگ ہوکر جو تمہیں گمراہی میں ڈالتا ہے محض عقل سلیم سے کام لے کر سوچو کہ کیا اس قسم کے مکر خدا کے قانون قدرت میں نہیں پائے جاتے؟ کیا وہ بدوں کے بد منصوبے جو نہایت باریک مکر کے طور پر کئے جاتے ہیں اُنہیں کے ہلاکت کے اسباب نہیں کر دیتا۔ کیا بدذات مکر کرنے والا جب اپنے بدمکر سے ایک نیک آدمی کو ناحق تباہ کرنا چاہتا ہے تو کیا خدا کی عادت نہیں ہے کہ اس نیک مظلوم کو یا گورنمنٹ کو جو عدالت کی کرسی پر بیٹھی ہے کوئی ایسی بات سجھا دیتا ہے اور کوئی ایسی مخفی شہادت پیدا کر دیتا ہے جس سے وہ بدمکر کرنے والا پکڑا جاتا ہے اور غریب مظلوم اس الزام سے بری کیا جاتا ہے۔ خدا کے یہ نیک مکر عدالتوں کے ذریعہ سے ہر روز ظاہر ہوتے ہیں اور شریر مکاروں کے تہ درتہ پردے کھولے جاتے ہیں چنانچہ کسی پر مخفی نہیں ہیں مگر آنکھ کے اندھوں کا کیا علاج۔ درحقیقت اس نادان معترض نے خدا کے نیک مکر کو قابلِ اعتراض ٹھہرانے کے لئے خود بدمکر استعمال کیا ہے کہ مکر کی دو قسم کو صرف ایک ہی قسم قرار دے کر لوگوں کو دھوکہ دینا چاہا ہے۔ ہم تقریر مذکورہ بالا میں مکر کی نسبت بقدر کفایت بیان کرچکے ہیں اب دوسرا اعتراض معترض کا یہ ہے کہ قرآن شریف میں خدا کا کرسی پر بیٹھنا بیان کیا گیا ہے*۔ سو واضح ہو کہ قرآن شریف میں اس طرح توکہیں ذکر نہیں ہے جیسا کہ معترض کا بیا ن ہے۔ ہاں خدا تعالیٰ * خدا تعالیٰ کی کرسی کے بارہ میں یہ آیت ہے 3 3 ۱؂ یعنی خدا کی کرسی کے اندر تمام زمین و آسمان سمائے ہوئے ہیں اور وہ اُن سب کو اٹھائے ہوئے ہے ۔ ان کے اٹھانے سے وہ تھکتا نہیں ہے اور وہ نہایت بلند ہے کوئی عقل اس کی کنہ تک پہنچ نہیں سکتی اور نہایت بڑا ہے اس کی عظمت کے آگے سب چیزیں ہیچ ہیں ۔ یہ ہے ذکر کرسی کا اور یہ محض ایک استعارہ ہے جس سے یہ جتلانا منظور ہے کہ زمین و آسمان سب خدا کے تصرف میں ہیں اور ان سب سے اس کا مقام دور تر ہے اور اس کی عظمت ناپیدا کنار ہے ۔ منہ