باز ؔ نہیں آتے۔ خدا کے اِس قسم کے کام بھی پائے جاتے ہیں کہ جس گڑھے کو ایک بدذات ایک شریف آدمی کے لئے کھودتا ہے خدا اسی کے ہاتھ سے اُسی گڑھے میں اُس کو ڈال دیتا ہے۔ اور انسانوں میں بھی یہی طریق جاری ہے کہ وہ مکر کرنے والے کو مکر کے ساتھ ہی سیدھاکرتے ہیں۔ مثلاً جب چور اور ڈاکو نہایت باریک مکروں کے ساتھ گورنمنٹ کی رعیت کو نقصان پہنچاتے ہیں تو اُن کے پکڑنے کے لئے پولیس کو بھی کوئی مکر کرنا پڑتا ہے مگر فرق یہ ہے کہ چوروں کا بدمکر ہے جس میں خلقِ خدا کو ضرر پہنچانا مقصود ہے اور پولیس کے ملازموں کا نیک مکر ہے جس سے غرض یہ ہے کہ ان بدذات چوروں کے ضرر سے گورنمنٹ کی رعیت کو بچایا جائے۔
ایسا ہی ابھی تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ بعض نمک حرام آریوں نے اِس گورنمنٹ عالیہ کے مقابل پر ایک بہت باریک مکر کیا تھا۔ اگر وہ چل جاتا تو یہ گورنمنٹ بڑی تشویش میں پڑتی اور شاید اس کا نتیجہ ۱۸۵۷ ء سے بھی بدتر ہوتا۔ مگر خدا نے اس گورنمنٹ پر فضل کیا کہ وہ اس بدمکر کی تہ تک پہنچ گئی تب اُس کے لائق آفیسروں نے اِن شریر آریوں کے بدمکر کے مقابل پر ان کی گرفتاری کے لئے ایک نیک مکر اختیار کیا یعنی بہت احتیاط اور خاموشی سے اِن کے سرغنوں کو گرفتار کرلیا اور ایسی حکمت عملی سے گرفتار کیا کہ آریوں کی طرف سے کوئی شور برپا نہ ہوسکا۔ تب بعض کو اِسی ملک کے جیل میں داخل کیا اور بعض کو گرفتار کرکے مانڈلے کے قلعہ کی ہوا چکھائی اس طور سے گورنمنٹ اپنے نیک مکر میں کامیاب ہوگئی مگر شریر آریہ اپنے بدمکر میں ناکام رہے اوراپنے لئے ہمیشہ کی تباہی سہیڑلی۔
اب بتلاؤ کہ کیا تم گورنمنٹ کے اِس مکر کو مورد اعتراض سمجھتے ہو یا اس کو گورنمنٹ کے پسندیدہ کاموں میں داخل کرتے ہو اور اگر تم پسندیدہ نہیں سمجھتے تو ہنوز تم درست کرنے کے لائق ہو۔ اور اگر پسندیدہ سمجھتے ہو تو تم پر ہزار افسوس! کہ آسمانی بادشاہت پر تو اعتراض کرتے ہو کیونکہ تم خیال کرتے ہو کہ خدا پکڑنے میں دھیما ہے لیکن انسانی گورنمنٹ کے مکر پر