کوئیؔ ایسی کتاب جو الہامی سمجھی جاتی ہے صفحہ زمین پر پائی نہیں جاتی جو خدا تعالیٰ کو تمام صفاتِ کاملہ سے متّصف اور تمام عیوب اور نقصانوں سے پاک سمجھتی ہو۔ ہاں قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کی صفات میں اس قسم کا مکر بھی داخل رکھا ہے جو اُس کی ذات پاک کے منافی نہیں اور جس میں کوئی امر اُس کے تقدس اور اُس کی بے عیب ذات کے مخالف نہیں اور جس پر خدا کا قانون قدرت بھی گواہی دیتا ہے اور اس کی قدیم عادت میں پایا جاتا ہے اور خدا کا مکر اس حالت میں کہا جاتا ہے اور اُس کے اِس فعل پر اطلاق پاتا ہے کہ جب وہ ایک شریر آدمی کے لئے اُسی کے پوشیدہ منصوبوں کو اُس کے سزایاب ہونے کا سبب ٹھہراتا ہے۔ قرآن شریف کے رُو سے یہی خدا کا مکر ہے جو مکر کرنے والے کے پاداش میں ظہور میں آتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 3۱؂ یعنی کافروں نے ایک بدمکر کیا کہ خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کومکّہ معظمہ سے نکال دیا اور خدا نے اُن کے مقابل پر ایک نیک مکر کیا کہ وہی نکالنا اُس رسول کی فتح اور اقبال کا موجب ٹھہرا دیا۔ پس خدا نے اس جگہ اپنا نام خیر الماکرین رکھا یعنی ایسا مکر کرنے والا جو نیک مکر ہے نہ بد مکر۔ اور کافروں کے مکر کو بدمکر قرار دیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے مکر کو دو قسم پر تقسیم کیا ہے۔ ایک۱ بد مکر اور ایک۲ نیک مکر۔ پس خدا نے نیک مکر اپنی صفات میں داخل کیا ہے اور بد مکر کافروں اور شریر لوگوں کی عادات میں قرار دیا۔ اب اے ہندو زادو ! جنہوں نے بدذاتی سے خدا کے مقدس رسول اور مقدس کتاب کو گالیاں دینی شروع کی ہیں کچھ حیا کرکے بتلاؤ کہ اِس قسم کے مکر میں کونسی خدا تعالیٰ کی کسرِ شان ہے اورخدا کی کن صفات کے وہ مخالف ہے۔ کیا خدا کا قانونِ قدرت اِس پر گواہی نہیں دیتا کہ شریر لوگوں کے ہلاک کرنے کے لئے جو بد مکروں سے