ایک معمولی بات اورعام طور پر انسانی فطرت کے لئے ایک طبعی امر ٹھہراویں لیکن ظاہر ہے کہ ؔ آفتاب پر تھوکنے سے اُس کی روشنی کم نہیں ہوسکتی۔ یہ تو صحیح بات ہے جس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ ایک کمزور درجہ پر اور نہایت ضعیف مرتبہ پر اکثر آدمی خوابیں بھی دیکھتے ہیں اور الہام بھی ہوتا ہے مگر وہ خوابیں اور وہ الہام کسی راستبازی اورتزکیہ نفس کا نتیجہ نہیں ہوتے اورکوئی فوق العادت امر اُن میں نہیں ہوتا اور نہ وہ اس طرز سے الہام ہوتے ہیں۔ کہ الہام پانے والوں کو ایک لمبے سلسلہ وحی سے جو دُعا کے بعد ایک ہی وقت میں سوال کے طور پر ہو عزت دی جائے اور نہ ایسی عظیم الشان پیشگوئیاں اُن الہاموں کے اندر ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ کھلے کھلے طور پر دُنیا میں ممتاز کئے جائیں یعنی ایسی پیشگوئیاں جو دُعا قبول ہونے کے بعد اہم کاموں میں اُن ملہموں کی قبولیت ظاہر کرنے کے لئے پوری کی گئی ہوں اور اُن پیشگوئیوں کی عظمت اور ہیبت دلوں میں بٹھائی گئی ہو غرض خدا کے قانون قدرت سے اگر کوئی واقف ہے تو صرف وہ لوگ ہیں جو علاوہ ظاہری علوم کے روحانی امور میں کامل حصہ رکھتے ہیں۔ جس نے اُس عالم میں سے کچھ بھی نہیں دیکھا اُس نے قانون قدرت کا کیا دیکھا ؟ ماسوا اِس کے مضمون پڑھنے والے کا یہ دعویٰ کہ صرف وید قانون قدرت کے موافق اوردوسری کتابیں قانون قدرت کے مخالف ہیں یہ صرف دعوےٰ ہے اگر وہ درحقیقت وید کو سچا اور قرآن شریف کو خلاف حق اور خلاف قانون قدرت سمجھتا ہے تو اُس کا فرض ہے کہ ایسی دو فہرستیں پیش کرے جن میں سے ایک میں یہ دکھاوے کہ وید کی کُل تعلیمیں اور کل عقائد قانون قدرت کے موافق ہیں۔ اوردوسری فہرست میں یہ دکھاوے کہ قرآن شریف کی کل تعلیمیں اور کل عقائد یا بعض تعلیمیں اور بعض عقائد قانون قدرت کے مخالف ہیں۔ ہم تو جابجا اس رسالہ میں وید کے نمونے ظاہر کرتے آئے ہیں اور اُن سے ایک طالبِ حق