معلوم کرسکتا ہے کہ کہاں تک وید قانون قدرت سے موافقت رکھتا ہے وید کے حامیوں کو
تو مناسب تھا کہ وہ اس بحث میں اپنے تئیں نہ ڈالتے اور چپ ہی رہتے اور خواہ نخواہ اپنے موجودہ وید کی پردہ دری نہ کراتے۔ جو کچھ وید نے اپنا فلسفہ اور علم طبعی ظاہر کیا ہے وہ یہی ہے کہ ہندوؤں کے پرمیشر کو ایک انسان کا فرزند قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اِندر آریوں کا پرمیشر کشلّیا کا بیٹا ہے۔
اور نیز یہ کہ عناصر اور اجرام سماویہ سب پرمیشر ہی ہیں اور نیز وہ تعلیم دیتا ہے کہ اِن تمام چیزوں سے مرادیں مانگی جائیں اور نیز یہ تعلیم جو نہایت گندی اور قابل شرم تعلیم ہے یعنی یہ کہ پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے( سمجھنے والے سمجھ لیں ) ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی پہلے زمانہ میں یہی وید تھا۔ بلکہ ہماری رائے یہ ہے کہ یہ ایک محرّف مبدّل کتاب ہے کچھ تو باعتبار الفاظ کے اور کچھ باعتبار معنوں کے۔ اور ہمارے نزدیک ممکن اور اغلب ہے کہ کوئی اصل کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگی پھر کچھ کم کی گئی ہے اور کچھ زیاد ہ کی گئی اور صورت بدلائی گئی ہے اورموجودہ وید بلاشبہ ایک گمراہ کرنے والی کتاب ہے جس میں پرمیشر کا بھی پتہ نہیں لگتا اور اِس قدر مخلوق چیزوں کی اس میں پرستش کی تعلیم ہے کہ گویا وہ مخلوق پرستی کی ایک دوکان ہے پس جس جگہ ہم وید پرکوئی حملہ کرتے ہیں یا اس کی تکذیب کے دلائل پیش کرتے ہیں اُس جگہ یہی موجودہ وید مراد ہے جو سراسر محرّف مبدّل ہے نہ وہ اصل وید جو کسی زمانہ میں خدا کی طرف سے آیا تھا اور ہم خدا کی تمام کتابوں پر ایمان لاتے ہیں اور ایسا ہی اُس وید پر جو کسی زمانہ میں ملک ہند کے کسی نبی پر نازل ہوا ہوگا مگر موجودہ وید کی نسبت ہم اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جس قدر گندے فرقے مخلوق پرستوں کے اس ملک میں پھیلے ہوئے ہیں یہ سب وید کی ہی مہربانی ہے۔ اور انسانی پاکیزگی کی نسبت جو کچھ وید نے سکھایا ہے اس کا عمدہ نمونہ نیوگ ہے یہ نیوگ کی ہی پاک کارروائیوں میں سے ہے کہ آریہ قوم میں اِس بات کا