ر۷۰ یا سو ۱۰۰دفعہ سوال
کیاؔ جائے تو اس کا جواب اُسی صورت اور اُسی پیرایہ میں دیتا ہے یعنی ہر ایک سوال کے وقت ایک خفیف سی غنودگی وارد حال ہو جاتی ہے اور کبھی ایک بھاری غنودگی اور ربودگی طاری حال ہو جاتی ہے کہ گویا انسان ایک غشی کی حالت میں پڑ گیا ہے اور اکثر عظیم الشان امور میں اس قسم کی وحی ہوتی ہے اور یہ وحی کی تمام قسموں میں سے برتر و اعلیٰ ہے۔ پس ایسے حالات میں جو سوال اور دُعا کے وقت لحظہ لحظہ پر غنودگی طاری ہوتی ہے اور اس غنودگی کے پردہ میں وحی الٰہی نازل ہوتی ہے یہ طرز غنودگی اسباب مادیّہ سے برتر ہے اور جو کچھ طبعی والوں نے خواب کے متعلق قانونِ قدرت سمجھ رکھا ہے اُس کو پاش پاش کرتی ہے ایسا ہی صدہا رُوحانی امور ہیں جو ظاہری فلسفہ والوں کے خیالات کو نہایت ذلیل ثابت کرتے ہیں بسا اوقات انسان کشفی رنگ میں کئی ہزار کوس کی دُور چیزوں کو ایسے طور سے دیکھ لیتا ہے کہ گویا وہ اُس کی آنکھ کے سامنے ہیں اور بسا اوقات اُن روحوں سے جو فوت ہوچکے ہیں عین بیداری میں ملاقات کرتا ہے۔ اب بتلاؤ کہ ہم ظاہری عقلمندوں کے کس قانون قدرت میں ان باتوں کو تلاش کریں جن کی عقل محض طبعی اور طبابت کے قوانین کے اندر محدود ہے اور ان روحانی امور کو سمجھ نہیں سکتی اور محض ظلم کے طور پر تکذیب کرکے خیال کر لیتے ہیں کہ ہم نے جواب دے دیا ہے ، غرض جس قانونِ قدرت کو وہ پیش کرتے ہیں وہ خدا کے قانون قدرت سے وہ نسبت رکھتا ہے جیسا کہ سمندر کے ساتھ ایک قطرہ کا ہزارم حصہ نسبت رکھتا ہے۔ بعض جاہل خدا کے رُوحانی قانون قدرت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ الہام کچھ بھی چیز نہیں صرف اصلیت یہ ہے کہ انسان کے دماغ کی بناوٹ ہی اس طرح واقع ہے کہ وہ خوابیں دیکھا کرتا ہے یا الہام ہوتے ہیں اور یہ کوئی اعجوبہ نہیں تمام دنیا اس میں شریک ہے۔ اس طور کی باتوں سے اُن کا مُدعا یہ ہوتا ہے کہ خدا کے الہام اوروحی کے سلسلہ کی کسر شان کرکے الہام اور وحی کو