اؔ بل پر طبعی قانون قدرت کا شیرازہ درہم برہم ہوجاتا ہے۔ مثلاً طبعی تحقیق کے لحاظ سے نیند آنے کے اسباب محض مادی ہیں اور جب وہ کم ہو جاتے ہیں تو نیند بھی کم ہو جاتی ہے۔ اور اُن کے بحال کرنے کے لئے مُسَکِّن دماغ اور مُرطّب چیزیں استعمال کرتے ہیں جیسے برومائڈ اورروغن خشخاش اور روغن تخم کدو اور روغن بادام وغیرہ مگر مکالمہ الٰہیہ کے وقت میں جو انسان کو ایک قسم کی نیند اورغنودگی آتی ہے جس غنودگی کی حالت میں خدا کا کلام دل پر نازل ہوتا ہے وہ غنودگی اسباب مادیہ کی حکومت اور تاثیر سے بالکل باہر ہے اور اس جگہ طبعی کے تمام اسباب اور علل معطل اور بیکار رہ جاتے ہیں مثلاً جب ایک صادق انسان جس کا درحقیقت خدا تعالیٰ سے محبت اور وفا کا تعلق ہے اپنے اُس جوشِ تعلق میں اپنے رب کریم سے کسی حاجت کے متعلق کوئی سوال کرتا ہے تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ ابھی اُسی دُعا میں مشغول ہوتاہے کہ ناگاہ ایک غنودگی اس پر طاری ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی آنکھ کھل جاتی ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اُس سوال کاجواب اُس غنودگی کے پردہ میں نہایت فصیح بلیغ الفاظ میں اُس کو مل جاتا ہے وہ الفاظ اپنے اندر ایک شوکت اورلذت رکھتے ہیں اور اُن میں اُلوہیت کی طاقت اورقوت چمکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور میخ آہنی کی طرح دل کے اندر دھنس جاتے ہیں اور وہ الہامات اکثر غیب پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک سوال کے بعد وہ صادق بندہ اُسی پہلے سوال کے متعلق کچھ اورعرض کرنا چاہتا ہے یا کوئی نیا سوال کرتا ہے تو پھر غنودگی اُس پر طاری ہو جاتی ہے اور ایک سیکنڈ تک یا اُس سے بھی کمتر حالت میں وہ غنودگی کھل جاتی ہے اور اُس میں سے پھر ایک پاک کلام نکلتا ہے جیسے ایک میوہ کے غلاف میں سے اُس کا مغز نکلتا ہے جو نہایت لذیذ اور پُرشوکت ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ خدا جو نہایت کریم اور رحیم اور اخلاق میں سب سے بڑھا ہوا ہے ہر ایک سوال کا جواب دیتا ہے اور جواب دینے میں نفرت اور بیزاری ظاہر نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ اگر ساٹھ۶۰ یا