اُنؔ سے اُن کی بیوی کے بارے میں نیوگ کی درخواست کرے تو غالباً اُس کو جان سے مار دیں گے۔
پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ بھی بیان کیا کہ معلوم شدہ قوانین نامعلوم قوانین سے برخلاف نہیں ہوسکتے اِس سے اُس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے تمام قوانین معلوم ہی ہیں مگر یہ بات تحقیق طلب ہے کہ کیا یہ جہالت اور ناواقفی تمام قوم آریہ میں ہے یا خاص طور پر اِسی شخص کا یہ قول ہے۔ واضح ہو کہ بڑے بڑے فلاسفر جو دُنیا میں گذرے ہیں وہ یہ اقرار کرچکے ہیں کہ انسان کا علم خدا کے نا متناہی علم کے مقابل پر اس قدر بھی نہیں ہے جیسا کہ ایک سوئی کو سمندر میں ڈبوکر اُس کی کچھ تری سوئی میں رہ جاتی ہے۔ سچے عارفوں کا تو یہ قول ہے کہ چونکہ قوانین الٰہیہ کی حد بست ہو ہی نہیں سکتی اِس لئے حدبست سے پہلے کسی امر کی نسبت ایک حد لگا دینا دو متناقض اقرار کو اپنی کلام میں جمع کرنا ہے۔ انسانی علوم جو انسانی عقل کے ماتحت ہیں وہ محض بذریعہ حواس خمسہ ظاہری یا بذریعہ حواس خمسہ باطنی کے معلوم ہوتے ہیں اور یہ آلہ قوانین قدرت کی شناخت کا خود محدود ہے اورظاہر ہے کہ غیر محدود بذریعہ محدود کے دریافت نہیں ہوسکتا۔ پس جن قوانین کو ہم معلوم شدہ کہتے ہیں ممکن ہے کہ وہ بھی دراصل کامل طور پر معلوم نہ ہوں کیونکہ کارخانہ قدرت وراء الوراء پڑا ہوا ہے۔ انسان صرف کنوئیں کے مینڈک کی طرح ایک سمندر کو اپنے تھوڑے سے پانی کے برابر سمجھ لیتا ہے اور انسان کی تحقیقاتیں ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں مثلاً جو کچھ طبعی اور ہیئت جدیدہ کے ذریعہ صدہا اسرار اب معلوم ہوئے ہیں پہلے اُن کا نام و نشان نہ تھا۔ پس ظاہر ہے کہ جن امور کو وہ قانون قدرت سمجھ رہے تھے وہ قانون قدرت اب اس زمانہ میں ہنسی کے لائق ہے اور ممکن ہے کہ بعد اس کے ایک اور زمانہ اس موجودہ طبعی اور ہیئت کو بھی نئی تحقیقاتوں کے ذریعہ سے منسوخ کردے۔ پس انسان کا قانون قدرت ایک ریت کا طو مار ہے جو ایک پُرزور ہوا سے اپنی جگہ کو چھوڑ دیتا ہے۔ یہ تو ہم نے محض ظاہری ترقی علوم اور تجربہ کا ذکر کیا ہے لیکن ایسے رُوحانی امور بھی ہیں جن کے