اپنیؔ آبادی کے لحاظ سے اپنی کاشتکاری کے لحاظ سے اور اپنی تجارت کے لحاظ سے ادنیٰ درجہ کی حالت میں ہوتا ہے اور اکثر زمین بنجر اور ناقابل زراعت ہوتی ہے اور لوگ جاہل اور وحشیوں کی طرح ہوتے ہیں تو اس صورت میں بہت نرمی سے اُن کی نسبت قانون بنایا جاتا ہے اور سرکاری لگان بہت کم مقرر کیا جاتا ہے اور تجارتی اُمور میں بھی نرم ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن جب ایک مدت کے بعد زمین کی ایک عمدہ حالت پیدا ہوجاتی ہے اور ہزارہا گھماؤں بنجر توڑ کر آباد کیا جاتا ہے اور خوش حیثیتی بہت بڑھ جاتی ہے اور ایسا ہی تجارتی کاروبار بھی ترقی پذیر ہو جاتے ہیں تو پھر قانون بدلنا پڑتا ہے اور یہ تبدیلی گورنمنٹ کے قانون پر ہی موقوف نہیں تعلیمی صیغہ میں بھی ضروری طور پر یہی تبدیلی پیش آتی ہے۔ جو بچے ابتدائی مرحلہ میں مدرسہ میں بٹھائے جاتے ہیں اُن کے لئے اور کتابیں ہوتی ہیں اور پھر جب اچھی طرح حروف شناس ہوجاتے ہیں تو پھر اورکتابیں اُن کو دی جاتی ہیں اور پھر جب استعداد اُس سے بھی بڑھ جاتی ہے تو دوسری کتابیں حسب استعداد ان کو دی جاتی ہیں اور سب کے بعد انتہائی کتاب کا وقت آتا ہے اور چونکہ خدا اپنی تعلیم میں گڑبڑ ڈالنا نہیں چاہتا اس لئے پیش از وقت کوئی قانون الہامی انسانوں کو نہیں دیتا کیونکہ جن تغیرات کا ابھی انسان کو علم ہی نہیں اُن تغیرات کے موافق انسان کو قانون دینا گویا اس کو سخت پریشانی میں ڈالنا ہے۔
ایسا ہی ہر ایک بیمار جو طبیب کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اس کے علاج میں بھی تبدیلیاں کی جاتی ہیں اور جو بیمار کی ایک خاص حالت میں نسخہ تجویز کیا جاتا ہے وہ نسخہ دوسری حالت کے شروع ہونے پر بدلایا جاتا ہے اور جب بیما ر میں تیسری حالت پیدا ہوجائے تو پھر اُسی حالت کے موافق نسخہ لکھا جاتا ہے اورخدا کی کتاب کو جو طبِّ رُوحانی ہے طبِّ جسمانی سے اُس کو بہت مناسبت ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں۔ پس جس حالت میں طبِّ جسمانی میں یہ تبدیلیاں ایک لازمی امر ہے تو پھر طبِّ روحانی میں کیوں لازمی نہ ہوگا