سؔ ایسا شخص جو ان تبدیلیوں پر اعتراض کرتا ہے اگر وہ بیمار ہوکر کسی طبیب کی خدمت میں حاضر ہو تو اُس کو سوچنا چاہئے کہ کیا جب طبیب بیماری کے عوارض بدلنے کی وجہ سے نسخہ کو بدلانا چاہے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ اے طبیب ! تو بیوقوف ہے کیونکہ یہ دوسرا نسخہ تجھے بعد میں ایک غلطی کرکے سوجھا ہے پہلے تو نے یہ نسخہ کیوں نہ لکھا۔ مجھے تعجب آتا ہے کہ یہ لوگ کیسے جاہل اور نادان ہیں کہ جو انسانی فطرت کو تبدیلیاں لازم ہوئی ہیں اُن سے بھی بے خبر ہیں۔ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ نوع انسان مختلف زمانوں میں اپنے اخلاق اور اعمال اور عقائد اور اپنی تمدنی صورتوں اور قومی عادات میں بڑے بڑے پلٹے کھاتے آئے ہیں اور خدا تعالیٰ ہر ایک انقلاب کے موافق اپنی طرف سے کوئی کتاب بھیجتا رہاہے کیا یہ ایسی باتیں ہیں جو سمجھ نہیں آسکتی تھیں بلکہ اکثر آدمی محض تعصب اور شرارت سے سچائی کے دشمن بن جاتے ہیں ایک بوڑھی عورت بھی جو چنداں عقل اور ہنر نہیں رکھتی اپنے بچے کی عمر اور موسم کی تبدیلی کے ساتھ اُس کے طریق تعہد میں تبدیلیاں کرتی رہتی ہے ایک وہ زمانہ ہوتا ہے جو بچہ صرف دودھ پینے کے قابل ہوتا ہے۔ اور پھر دوسرا زمانہ آتا ہے کہ کچھ نرم نرم غذا بھی دینا شروع کرتی ہے۔ اور پھر تیسرا زمانہ آتا ہے کہ قطعاً اُس کو دودھ دینا بند کر دیتے ہیں اور بچہ گو روتا رہے مگر اس کی کچھ بھی پروا نہیں کی جاتی۔ اور پھر اوائل میں جو بچہ کو پاجامہ پہنایا جاتا ہے آگے پیچھے سے ایک چاک چھوڑ دیتے ہیں۔ تا پیشاب کرنے اور پاخانہ پھرنے میں اُس کو تکلیف نہ ہو اور پھر جب کچھ ہوش سنبھل جاتا ہے تو پھر وہ چاک بند کیا جاتاہے۔ اسی طرح تبدیلیاں وقوع میں آتی رہتی ہیں۔ پس یہ سخت نادانی کا خیال ہے کہ تبدیلی محض لا علمی کی وجہ سے ہوتی ہے ایک تدبر کی نظر سے دیکھنا چاہیئے کہ خدا نے انسان کے جسمانی رزق پیدا کرنے میں بھی جو قانون قدرت رکھا ہے وہ بھی تبدیلیوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایک موسم اُس نے بارشوں کے لئے مقرر کیا ہے اور پھر دوسرا موسم دُھوپ کا ہے کیونکہ اگر بارشیں ہی ہوتی رہیں اور دُھوپ کی نوبت نہ آئے تو تمام تخم جو بویا گیا ہے پانی میں بہ جائے۔ اور اگر دُھوپ ہی رہے اور بارشیں نہ ہوں تو تخم