اور ؔ پھر اس فرض کرنے کے بعد تمام دوسری الہامی کتابوں کو نعوذ باللہ انسان کا افترا قرار دیا ہے حالانکہ ایسا اعتراض پیش کرنے کے وقت پہلے اس کے لئے ضروری تھا کہ وید کا ابتدائے زمانہ میں نازل ہونا ثابت کرتا اور اس کے منجانب اللہ ہونے پر کوئی دلیل پیش کرتا لیکن اُس نے کوئی دلیل پیش نہیں کی اور نہ کرسکتا تھا بلکہ جس خدا کو وید نے پیش کیا ہے اُس کے وجود کا بھی اُس نے کچھ ثبوت نہیں دیا تو پھر وید کی سچائی کا ثبوت کہاں سے میسر آوے اور پھر اگر فرض بھی کرلیں کہ وید ابتدائے زمانہ کا ہے تب بھی اُس کا ابتدائے زمانہ میں ہونا سچائی کی دلیل نہیں ہے۔ کیا ابتدائے زمانہ میں افترا کرنا اور جھوٹ بولنا انسان کو نہیں آتا تھا اور کیا صرف بعد میں افترا کا طریق نکلا ہے بلکہ جیسا کہ اول زمانہ میں سانپ بندر سؤر سب موجود تھے ایسا ہی شریر انسان بھی موجود تھے ہاں تعداد میں کم تھے۔
پھر ماسوا اس کے یہ کہنا کہ خدا کے قانون میں تبدیلی غیر ممکن ہے ہاں انسانی قوانین بباعث کمی تجربہ اورکمی علم کے بدلائے جاتے ہیں یہ قول بھی ایسے لوگوں کا قول ہے کہ جنہوں نے انسانی قوانین پر بھی کبھی غور نہیں کی۔ اگر مضمون پڑھنے والا گورنمنٹ کے کسی واضح قانون سے ہی ملاقات کرتا اور اُس سے دریافت کرلیتا کہ کیا ہمیشہ نیا قانون بنانے کا یہی ایک سبب ہوتا ہے کہ دراصل اس قانون میں کوئی غلطی ہوتی ہے اور پھر تجربہ کے بعد پتہ لگتا ہے کہ دراصل ہم نے فلا ں فلاں امر میں غلطی کھائی ہے اور دوسرا کوئی بھی سبب نیا قانون بنانے کا نہیں ہوتا۔ تو ایسا بیہودہ اور احمقانہ خیال کبھی اُس کے منہ سے عام جلسہ میں نہ نکلتا بلکہ تبدیل قانون کا بھاری سبب وہ تبدیلیاں ہوتی ہیں جو انسان کے ذاتی حالات اور چال چلن اور ذہنی قویٰ اور اموال اور املاک اور اس کی تمدنی صورتوں یا جنگی طریقوں میں ظہور میں آتی ہیں۔ مثلاً ایک وہ زمانہ تھا جو تیرو کمان یا تلوار سے لڑائی ہوتی تھی اور دوسرے زمانہ میں بندوق وغیرہ وہ ہتھیار پیدا ہوگئے جنہوں نے تیروکمان کو بیکار کردیا اور ساتھ ہی لڑائی کا قانون بھی بدل گیا۔ ایسا ہی جب ایک ملک