کرؔ تا ہے اور چونکہ کوئی شخص اُس کے قانون کی حد بست نہیں کرسکتا اس لئے جلدی سے بغیر کسی قطعی دلیل کے جو روشن اور بدیہی ہو یہ اعتراض کرنا کہ فلاں امر قانون قدرت کے مخالف ہے محض حماقت ہے کیونکہ جس چیز کی ابھی حدبست نہیں ہوئی اور نہ اس پر کوئی قطعی دلیل قائم ہے اس کی نسبت کون رائے زنی کرسکتا ہے ؟ ہاں قطعی اور یقینی طور پر جو باتیں ثابت ہوچکی ہیں اُن سے انکار کرنا ایک قابل شرم جہالت ہے جیسا کہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ خداواحد لا شریک ہے اور وہ ان تمام باتوں پر قادر ہے جو اس کے تقدس اور کمال کے برخلاف نہیں ہیں اور قانون قدرت کا تو یہ حال ہے کہ پہلے زمانہ میں خدا نے انسان کو محض مٹی سے پیدا کیا یہ بھی ایک قانون قدرت تھا اور پھر اب نطفہ سے پیدا کرتا ہے تو یہ امر بھی قانون قدرت ہے اور پھر اگر ایک زمانہ کے بعد کسی اور طور سے انسان کو پیدا کرے توکیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ طور اس کے قانون قدرت سے باہر ہے جو غیر محدود ہے۔ یہ خیالات سب جہالتیں ہیں سچ تو یہ ہے کہ نہ کسی نے اب تک اُس کی حد بست کی اور نہ اُس کے قانون کی۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے اپنے مضمون میں یہ بھی بیان کیا کہ خدا کا قانون یعنی الہامی کتاب بدل نہیں سکتی۔ ہاں انسانی قوانین ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں کیونکہ انسان کا علم محدود ہے مثلاً گورنمنٹ جو آج قانون بناتی ہے تو کل اُسے بدلنا پڑتا ہے۔ یہ تبدیلی اس لئے کرنی پڑتی ہے کہ گورنمنٹ کامل علم نہیں رکھتی بلکہ بہت محدود علم رکھتی ہے۔ چونکہ علم تجربہ سے بڑھتا ہے اس لئے گورنمنٹ کے قانون میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے مگر خدا کا علم کامل ہے اس لئے اُس کو اپنی کتاب کی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ اس تقریر میں گویا مضمون پڑھنے والے نے ان تمام کتابوں پر حملہ کیا ہے جو بجز ویدکے خدا کی الہامی کتابیں قوموں میں پائی جاتی ہیں اور اس حملہ کے وقت پہلے اُس نے اپنے دل میں بغیر کسی دلیل کے فرض کرلیا ہے کہ سب الہامی کتابیں وید کے بعد ہیں اور پھر یہ فرض کرلیا ہے کہ وید کامل کتاب ہے اور اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں